اسلامی_طرزِتربیت 137
بہن پر رحم کیا کریں
محاضرات الادباء میں ہے
حجاج بن یوسف کے پاس ایک عورت آئی جس کا شوہر بیٹا اور بھائی قید تھے اور ان کو سزائے موت سنا دی گئی تھی
حجاج نے اس عورت کو کہا ان تین میں سے ایک کو بچا سکتی ہے تم خود چن لو کسے زندہ رکھنا ہے؟
عورت نے کہنے لگی!
الزوج موجود والابن مولود والأخ مفقود أختار الأخ
شوہر تو وہ مل جائے گا
بیٹا پیدا ہو جائے گا
جبکہ بھائی گیا تو واپس نہیں آئے گا
لہذا میں بھائی تو اختیار کرتی ہوں
حجاج نے کہا تمہارے حسنِ کلام کی وجہ سے سب کو معاف کیا جاتا ہے
عورت کا مطلب تھا کہ شوہر پھر مل جائے گا جس سے بیٹا پیدا ہو سکتا ہے مگر بھائی جو میرے ماں باپ سے ہے وہ کہاں سے آئے گا؟
لہذا جو مل سکتا ہے اس چھوڑ کر جو نہیں ملے گا اسے اختیار کرتی ہوں
بہن کا بھائی سے عجیب پیار ہوتا ہے
اھل عرب اسی پر کہتے ہیں کہ اگر یوسف علی نبینا و علیہ الصلاۃ والسلام کے بھائیوں کی جگہ بہنیں ہوتی وہ آپ کو کنویں میں نہ پھینکتیں
بیہقی شریف میں روایت ہے
جب سیدہ حلیمہ سعدیہ کے قبیلے کو قیدی بنا کر مدینہ پاک میں لایا گیا تو ان میں حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی رضاعی بہن شیماء بھی تھیں
وہ جب حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حاضر ہوئیں تو تقریبا ساٹھ سال کا عرصہ گزر چکا تھا
عرض کیا
میں آپ کی رضاعی بہن ہوں
فرمایا
اس کی کوئی دلیل ہے؟
عرض کیا
عضة عضضتنيها في ظهري
آپ نے بچپن میں میری کمر پر اپنے داندانِ مبارک ثبت فرمائے تھے
یعنی مبارک دانتوں سے کھیلتے ہوئے کاٹی کی تھی جس کا نشان آج بھی موجود ہے
حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ نشان پہچان لیا اور تصدیق فرماتے ہوئے ان کے لیئے چادر بچھا دی
یعنی بہن کی تکریم کا طریقہ ارشاد فرمایا
اور ان کے اکرام میں تمام قیدیوں کو آزاد فرمایا دیا
بہنوں سے حسن سلوک کرنا سنت ہے اور عظیم ثواب کا کام ہے
بہن بیٹی کی طرح نازک دل اور بھائی کے لیئے صاف دل ہوتی ہے
ہمارے شیطانی معاشرے کی غلیظ ترین برائیوں میں سے ایک برائی جو ماؤں نے پھیلا دی ہے وہ یہ کہ ماں کی بہن یعنی خالہ تو دنیا کی سب سے مخلص عورت ہے اور باپ کی بہن یعنی پھوپھو دنیا کی سب سے بڑی دشمن ہے
گھر میں خیر و برکت , رحمت و عافیت پیچھے بیٹھی خالہ کی دعاؤں کی بدولت جبکہ گھر میں مصیبت و پریشانی پھوپھو ہیں
یاد رکھیں آپ کا خون خالہ نہیں پھوپھو ہوتی ہے اور خون سے بڑھ کر مخلص رشتہ اللہ رب العزت نے پیدا نہیں کیا
اگرچہ دونوں کے ساتھ حسنِ سلوک فرض ہے
مگر ایک کو خیر خواہ اور دوسری کو دشمن سمجھنا ماؤں کی لگائی آگ ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
