انسانی بلکہ علمی کتے کون ہیں

اسلامی_طرزِتربیت 135

محمد بن خلف محولی جن کی وفات 309 ھجری میں ہوئی بڑے مورخ و ادیب تھے
انہوں نے ایک مختصر سا رسالہ بنام
تفضیل الکلاب علی کثیر ممن لبس الثیاب

{ کتوں کی فضیلت ان کثیر لوگوں پر جو لباس پہنتے ہیں }

اس میں سیدی فضیل بن عیاض کا فرمان لکھا ہے
°°° آدمی اس وقت تک بہترین نہیں بن سکتا جب تک اس کا دشمن اس سے امن محسوس نہ کرے °°°
پھر فرمایا
اب وہ زمانہ کہاں رہا اب تو دوست بھی دوست سے امن محسوس نہیں کرتے دشمن تو دور کی بات ہے

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مقتول دیکھا پوچھا اس کا کیا معاملہ ہے
لوگوں نے عرض کیا کہ اس نے بنی زھرہ کے ریوڑ سے ایک بکری چرانا چاہی تو رکھوالی کے کتے نے اس پر حملہ کر کے مار ڈالا
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
اس نے اپنے آپ کو خود قتل کا اپنے دین کو ضائع کیا اپنے رب کو ناراض کیا اپنے بھائی سے خیانت کی عمل کے لحاظ سے یہ کتا اس مقتول سے اچھا ہے
مزید فرمایا کہ
کیا تم اس بات سے عاجز ہو کہ اس اپنے بھائی کے اھل و مال کی یوں حفاظت کرو جیسے اس کتے نے اپنے مالک کے مال کی حفاظت کی ہے
یعنی • اس کتے نے مالک سے وفاء کی جبکہ اس آدمی نے اپنے مالک کے حکم پر عمل نہ کر کے وفاء نہیں کی اسی لیئے کتا اس سے بہتر ہے •

اخفش بن قیس نے کہا
جب کتا دم ہلائے تو اسکے دم ہلانے پر اعتبار کر لو اور اگر انسان دم ہلائے تو اعتبار نہ کرو کیونکہ بہت سے دم ہلانے
والے انسان خائن ہوتے ہیں

امام شعبی نے فرمایا
° کتے کی سب بہترین عادت یہ ہے کہ وہ محبت میں منافقت نہیں کرتا °

سیدی ابن عباس کا فرمان ہے
امانت داد کتا خیانت کرنے والے انسان سے بہتر ہوتا ہے

بعض علماء نے فرمایا
اس زمانے میں لوگ خنز،،یر ہیں تو اگر تم ان میں کتے پاؤ تو انہی سے معاملہ طے کرو کیونکہ یہ کتے بھی ان خنز،،یروں سے بہتر ہیں

امام اعمش کے پیچھے ایک کتا چلا کرتا تھا اپکو اس بارے برا کہا گیا تو فرمایا
ایک بار بچے اس کو چھیڑ رہے تھے میں نے اسکو بچایا اس کے بعد سے جب بھی مجھے دیکھتا ہے میرے پیچھے دم ہلاتا ہوا چل پڑتا ہے

زمانہ پرفتن ہے بظاہر دوست اندر سے دشمن ہوتا ہے
اور سب سے بڑا دشمن تو وہ جو نیکی سے روکے اور برائی پر مکمل تعاون کرے وہی لوگ جن کے بارے اوپر کہا گیا وہ خنز،،،یر ہیں

یقین کریں اتنی اقسام اصل کتوں کی نہیں ہیں جتنی انسانوں میں کتوں کی ہیں
کوئی تعلیمی کتا ہے یعنی علم سیکھ کر استاذ و معلم پر غراتا ہے
کوئی تنظیمی و تحریکی کتا ہے جو اس تنظیم و تحریک کا کھاتا پیتا مگر پھر بھی مخالفت میں غراتا ہے
کوئی مسلکی کتا ہے جو اپنے مسلک کے اکابر علماء پہ غراتا ہے اور اکثر کاٹ بھی لیتا ہے
کوئی گھریلو کتا ہے جو گھر کی عزت رول دیتا ہے
کوئی دوستی کا کتا ہے جو دوست کو رسوا کر دیتا ہے

نیک لوگ شیر کی طرح ہوتے ہیں جن کی صحبت صرف شیر اختیار کرتا ہے دنیاوی کتے اس سے دور رہتے ہیں
آپ بھی شیر بنیں اور شیروں کی صحبت اختیار کریں
مجھے اکثر انسانی بلکہ علمی کتوں سے واسطہ پڑتا رہتا ہے
جو آدھی بات کاٹ کر علماء و مشائخ کو مجھ سے بدظن کرتے ہیں
یہ کتے نہ دین کے خیر خواہ ہیں نہ اپنے نبی کے وفاء دار ہیں
ان کو نہ خوفِ خدا ہے نہ شرمِ مصطفیٰ ہے
نہ پاسِ ادبِ نسبتِ رسول نہ لحاظِ نسبتِ علم ہے
میں مہتابِ عالم ہوں الحمد للہ
عربی کا مقولہ ہے
نبح الکلاب لا یضر السحاب
کتوں کا بھونکنا بالوں کو نقصان نہیں دیتا
میں کہتا ہوں
نبح الکلاب لا یضر مہتاب
اشعار کے پردے میں ہم جن سے مخاطب ہیں
وہ جان گئے ہوں گے کیوں نام لیا جائے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top