اسلامی_طرزِتربیت 62
شام کے لوگ اگر اپنے بیٹے سے شادی کرنا چاہتے
اور ان کے پاس اس کی شادی کرنے کے لیے کمرہ نہیں ہوتا
تو
گھر کا سربراہ سامنے والے پڑوسی کے پاس جاتا ہے اور کہتا ہے
اعرنی کتفک
مجھے اپنا کندھا ادھار دے دو
یا دوسرے لفظوں میں
مجھے اپنی دیوار ادھار دے دو
پڑوسی دو گھروں کے درمیان دولہا کے لیئے ایک محراب اور اس کے اوپر ایک کمرہ بنانے کی اجازت دے دیتا
اس طرح شام کے گھروں میں وہ محرابیں آج بھی موجود ہیں جو آپ کو بہت تعداد میں نظر آتی ہیں
وہ محبت کی محراب
اچھی ہمسائیگی
یہ مسلمانوں کے باہمی حسن معاشرت اور خیر خواہی مسلم کی عظیم مثال تھی
جس نے ایک عظیم معاشرے کی بنیاد رکھی
کاش کہ ھمارے ہاں بھی لوگوں میں ویسا ظرف ویسی محبت ویسا معاشرہ بھی ہوجائے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

