اسناد کی اہمیت ایک زاویہ نظر سے

علومِ_حدیثِ_نبوی 1

عبد اللہ بن مبارک فرماتے ہیں
الإسناد من الدين لو لا الإسناد لقال من شاء على ما شاء
اسناد دین کا حصہ ہے اگر اسناد نہ ہوتی تو بندہ جو چاہتا کہتا پھرتا

امام شافعی نے فرمایا
الذي يطلب الحديث بلا سند كحاطب ليل يحمل الحطب وفيه أفعى وهو لا يدري
جو بغیر سند کے حدیث طلب کرے وہ رات کو ایسی لکڑیاں جمع کرنے والے کی طرح ہے جس میں خطرناک سانپ چھپا ہوا ہوتا ہے

ابو علی الجیانی حدیث میں امام ہیں فرماتے ہیں
خصّ الله تَعَالَى هَذِهِ الأمة بثلاثة أشياء لَمْ يعطها مَنْ قَبْلَهَا مِنَ الأمم: الإسناد والأنساب والإعراب
اللہ رب العزت نے ہماری اس امت کو تین اشیاء سے خاص فرمایا اس سے پہلے کسی امت کو یہ اشیاء نہ عطاء فرمائیں
اسناد , انساب , اعراب

یعنی اسناد اس امت کا خاصہ ہے اور بغیر سند کے حدیث بیان کرنے والا سانپ کے منہ میں ہاتھ ڈالنے والے کی طرح ہے

معرفۃ علوم الحدیث میں ہے
ابی فروہ نے امام زہری کے سامنے بغیر سند کے حدیث پڑھنا شروع کر دی اور کہا قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
تو امام زہری نے فرمایا
ما أجرأك عَلَى الله ألا تسند حديثك؟ تُحَدِّثُنا بأحاديث ليس لها خُطُم ولا أَزِمَّة
اللہ ربّ العزت کی بارگاہ میں تجھے کس شے نے بیباک بنا دیا ہے کہ تو اپنی حدیث کی سند کیوں نہیں بیان کرتا
تو ہمیں ایسی حدیث بیان کرتا ہے جس کا نہ ناک ہے نہ دم ہے
یعنی جس کا اول و آخر ناقابل اعتبار ہے

خطیب بغدادی نے امام المحدثین سفیان ثوری کا فرمان نقل کیا
الإسناد سلاح المؤمن إذا لَمْ يَكُنْ مَعَهُ سلاح فبأي شيء يقاتل

اسناد مومن کا ہتھیار ہے تو جس سپاہی کے پاس ہتھیار نہ ہوں وہ کیسے لڑائی کرے گا

بہر حال اسناد دین کا حصہ ہے اسناد نہ ہو تو دین کی بنیاد ہل جائے

اسناد کے بغیر حدیث لینا یوں جیسے سانپ کے منہ میں ہاتھ ڈالنا بلکہ زیادہ خطرناک کہ سانپ جان لے گا اور یہ ایمان”
اسناد مومن کا ہتھیار ہے ہتھیار کے بغیر لڑنا کھلی شکست ہے
اسناد کے بغیر حدیث کا اول و آخر ناقابل اعتبار ہے
اسناد اس امت کا خاصہ ہے اور اس کی اہمیت نہ جاننا اللہ ربّ العزت کی عطاء کردہ عظیم نعمت سے منہ پھیرنا ہے

ابن عساکر نے امام المحدثین ابو حاتم رازی کا فرمان نقل کیا
ان کو کہا گیا محدثین کبھی محدثین اپنی کتب میں ایسی احادیث لکھتے ہیں جن کی نہ اصل ہوتی ہے نہ وہ صحیح ہوتی ہیں (یہاں لا اصل کا معنی اصول حدیث کے جاننے والے خوب جانتے ہیں)

فرمایا
علماؤهم يعرفون الصحيح من السقيم فروايتهم ذلك للمعرفة ليتبين لمن بعدهم أنهم ميزوا الآثار وحفظوها
علماء جانتے ہیں کہ غیر صحیح میں سے صحیح کونسی ہوتی ہے پھر بھی ان کا ایسی احادیث ذکر کرنا پہچان کروانے کو ہوتا ہے تاکہ بعد والے ان میں فرق کر کے صحیح کو یاد کر سکیں

شیخ الاسلام قاضی ابو بکر بن عربی المعافری فرماتے ہیں

والله أكرم هذه الأمة بالإسناد لم يُعطِه أحدًا غيرها فاحذروا أن تسلكوا مسلك اليهود والنصارى فتحدثوا بغير إسناد فتكونوا سالبين نعمة الله عن أنفسكم، مطرقين للتهمة إليكم وخافضين لمنزلتكم، ومشتركين مع قوم لعنهم الله وغضب عليهم
اللہ رب العزت نے اس امت کو اسناد دے کر عزت بخشی جو کسی اور امت کو نہیں دی تو تم یہود و نصاری کے نقش قدم پر چلنے سے بچو کہ تم حدیث بغیر سند کے بیان کرنے لگ جاؤ اگر تم ایسا کرو گے تو تم اللہ کی نعمت کو خود سے دور کرنے والے شمار ہوگے خود پر تمہت لگانے والے اپنا مقام گھٹانے والے اور اللہ تعالیٰ کی لعنت اور غضب کے شکار ہو جاؤ گے ان کے ساتھ مل جاؤ گے جن پر لعنت و غضب ہوا

دوسری جگہ فرمایا
فالعلم حدثنا وأخبرنا وما سوى ذلك وسواس الشيطان
اصل علم تو حدثنا و اخبرنا ہے (یعنی اسناد کے ساتھ احادیث) اس کے سوا جو بھی ہے وہ شیطانی وسوسے ہیں
یعنی بغیر سند کے احادیث شیطانی وسواس ہیں

اسناد کے بغیر احادیث کے فضائل بیان کرنا ایک نیا محاذ کھولنے والی بات ہے
علماء امت نے اسناد کی اہمیت خوب واضح کر دی ہے اس کے باجود بے اسناد کی حدیث کے فضائل شمار کرنا ائمہ سے ٹکرانے کی مثل ہے

رہی بات فضائل اعمال کی تو وہ مسلم ہے جس کا یہ مطلب نہیں کہ دم کٹی اور ناک کٹی اسناد کے فضائل بیان کیئے جائیں
کتنا ہی فرق ہے دونوں کے بیچ!

ایک متہم بالکذب روای کی وجہ سے حدیث درجہ اعتبار سے ساقط ہو جاتی ہے تو جس کی سند میں سے ایک شخص کا بھی علم نہ ہو ممکن ہے اس میں دس ساقط ہوں

اور “محدثین کا جزم کے صیغے سے محدث کا بیان کرنا صحت کی دلیل نہیں ہوتی”
کیونکہ
اولاً محدثین ہی موضوع احادیث بیان کرتے ہیں عامی کی نہ مجال نہ اس کا میدان
ثانیاً اس محدث کے نذدیک ممکن ہے وہ راوی مقبول ہو حقیقتاً کذاب ہو سکتا ہے
ثالثاً اکابر محدثین نے بلا سند حدیث کو قطعا غیر مقبول ہی کہا ہے
رابعاً بلا سند کی حدیث بیان کرنے سے دجل و کذب کا ایک دروازہ کھل جائے گا فضائل سے ترقی کرتے ہوئے احکام پھر عقائد میں بھی یہی قاعدہ جاری کیا جائے گا
خامساً حد تواتر تک والی احادیث میں سند کی حاجت نہیں یہ بات اظہر من الشمس ہے حد تواتر کو خبر واحد کی بغیر سند پر قیاس نادرست ہے
سادساً بارہا ایسا ہوتا ہے کہ ایک محدث اپنی کتاب میں ایسی حدیث لاتا ہے جو ضعیف بلکہ موضوع ہوتی ہے یہ اس وجہ سے نہیں کہ وہ محدث متساہل یا غافل ہے بلکہ جس محدث سے نقل کی اس کی تحقیق و توثیق پر اعتماد کرتے ہوئے اس کو اپنی کتاب میں بیان کر دیا جاتا ہے تو “اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کسی محدث کی روایت کو اپنی کتاب میں مقرر رکھنا دونوں کے نذدیک صحت کی دلیل ہو” کیونکہ ممکن ہے متقدم نے صحت کی کوشش کی مگر وہ اصل میں موضوع ہو اور متبع نے متقدم کی تصحیح پر اعتبار کر کے اپنی کتاب میں لکھ دیا ہو

بہر حال اسناد بہت اھم ہیں امت کو اسناد کے ہونے کی اہمیت بیان کی جائے نہ کہ پہلے سے جہل میں مبتلاء قوم کو تن آسانی کا کام دے دیا جائے
کہیں ہر بندہ اس عظیم علم میں اپنے سینگ نہ پھنساتا پھرے اور اکابر محدثین کو عام سمجھتا پھرے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top