آپ کی قیمت آپ کے اندر سے ہے

اسلامی_طرزِتربیت 129

جب چمڑے سے بنا تھیلا پانی سے بھرا ہو تو عربی میں اسے قِربۃ کہتے ہیں
جب دودھ سے بھرا ہو تو شکوۃ کہتے ہیں
جب سوجی کے آٹے سے بھرا ہو تو اسے مِزود کہتے ہیں
جب گھی سے بھرا ہو تو اسے عِکۃ کہتے ہیں
جب کجھور کے شیرے سے بھرا ہو اسے بِطانۃ کہتے ہیں
جب چمڑے کا تھیلا ہوا سے بھرا ہو تو وہ موسیقی کا ایک خاص آلہ بن جاتا ہے جسے زُرنۃ کہتے ہیں
° اسی طرح انسان بھی ظاہری طور پر ایک جیسے اور باطنی طور پر الگ الگ خوبیوں کے مالک ہوتے ہیں °
اصل قیمت ظاہر کی نہیں اندر موجود جوہر کی ہے
ظاہر جتنا بھی حسین ہو کچھ فضیلت نہیں اصل معیار اندر کا ہے
مشکیزے کی طرح اندر علم ہوگا تو عالم
روحانیت ہوگی تو ولی
جہالت ہوگی تو جاہل
تعصب ہوگا تو متعصب
کفر ہوگا تو کافر
نفاق ہوگا تو منافقت
دنیا ہوگی تو دنیا دار
دین ہوگا تو دیندار

” آپ غور کریں اندر کیا ہے؟ “

دنیا کی محبت ہے یا آخرت کی محبت ہے؟

علمِ دین کو اہمیت دیتے ہیں یا علمِ دنیا کو اہمیت دیتے ہیں؟

اصلاح کرتے ہیں یا فساد برپا کرتے ہیں؟

کسی کی ظاہری شکل و صورت دیکھ کر حکم نہ لگائیں نہ ظاہری صورت پر فیصلہ کریں
اس کی زبان دل کی ترجمان ہوتی ہے زبان سے دین کی باتیں علم کے موتی نکلتے ہیں تو معزز و مکرم ہے
°°° اگر زبان سے دنیا و مال کی باتیں فتنہ و فساد کی باتیں اختلاف و مخالفت کی باتیں نکلتی ہیں تو شیطان بے ایمان ہے °°°
ایسوں سے کلیتاً اجتناب کریں
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top