اسلامی_طرزِتربیت 130
لوگوں کو عموماً غلط فہمی ہوتی ہے کہ ہمارا گھرانہ یا فلاں کا گھرانہ مذہبی جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے
مذہب کو روزی روٹی کا ذریعہ بنانے سے گھرانہ مذہبی نہیں ہوجاتا مذہب پر عمل فرائض و واجبات و سنن کی پابندی اور حرام و مشتبہات سے بچنے والا مذہبی گھرانہ ہوتا ہے
کسی کا باپ حافظ قاری یا عالم و مفتی ہے اور بچے بھی مدرسہ جامعہ میں پڑھتے یا پڑھاتے ہیں مگر فرائض و واجبات سے غافل ہیں حرام و منہیات سے نہیں بچتے تو ° وہ گھرانہ مذہب کو کھا رہا ہے مذہب کی کھا رہا ہے مذھب سے کھا رہا ہے مگر مذہبی گھرانہ نہیں ہے °
گھر میں ٹی وی چلتا ہے بچے پینٹ پہنتے ہیں بچی نقاب نہیں کرتی اولاد فلم و ڈرامہ دیکھتی ہے ناولز پڑھتی ہے بیٹی مخلوط تعلیم حاصل کرنے کالج و یونیورسٹی جاتی ہے تو آپ امام و مفتی ہو کر دین کھا رہے ہیں نہ مذہبی شخص ہیں آپ نہ آپ کا گھرانہ مذہبی ہے
لہذا غور کریں آپ خود امام مسجد ہیں یا جامعہ و مدرسہ کے استاد ہیں اگر صرف روزی روٹی کے لیئے یہ پیشے اختیار کیئے ہیں تو آپ کا گھرانہ مذہبی نہیں بلکہ آپ مذہبی تاجر ہیں
کیونکہ آپ گھر سے باہر دیندار ہیں اور گھر میں آپ کے متعلقین اور ماتحت دین کے باغی ہیں اور آپ کھلی آنکھ سے دیکھ کر چپ چاپ رہتے ہیں
پھر مذہب کہاں ہے؟
یہ تو تجارت ہے وہ بھی دین کی تجارت
لہذا • اگر دینی کاموں کو رزقِ حلال کا ذریعہ بنایا بھی ہے تو اس دین کو گھر میں تو لاگو کریں ورنہ مان جائیں کہ آپ دین کے تاجر ہیں •
مثلا امام صاحب کی امامت ختم کر دی جائے تو کیا وہ اسی طرح جماعت سے دس منٹ پہلے مسجد جا کر بیٹھ جایا کریں گے ؟
ہرگز نہیں
معلوم ہوا یہ ڈیوٹی ہے رزق کمانے کو تو گھر پر دین نافذ کرنے کی ڈیوٹی کیوں نہیں نبھاتے؟
اسی طرح دیگر مذہبی شعبہ جات والے غور کریں
مذہب کو کھا رہے ہیں , مذہب کی کھا رہے ہیں یا حقیقی معنوں میں مذہب کے محافظ ہیں ؟
✍️ #سیدمہتاب_عالم
