اسلامی_طرزِتربیت 128
مامون الرشید نے کہا
لوگ تین طرح کے ہوتے ہیں
غذاء کی مثل
دوا کی مثل
وباء کی مثل
غذا جیسے لوگوں سے کنارہ کرنا ممکن نہیں ہوتا
اور دوا جیسے لوگ اسی وقت کام آتے ہیں جب بندہ بیمار ہو
جبکہ وباء جیسے لوگوں کی محتاجی نہیں ہوتی مگر جب بندہ ان میں مبتلاء ہو جائے تو نہ ان سے انسیت ہوتی ہے نہ نفع ہوتا ہے
جب ایسے لوگوں سے پالا پڑے تو ان سے بچنے کی مدارت کریں
یہاں چند اشیاء قابلِ غور ہیں
غذاء و دواء صرف ماں باپ اور ذی رحم رشتہ دار ہیں
کچھ دوست بھی دواء کی مثل ہوتے ہیں
° باقی دنیاوی محب و محبوب نہ غذاء نہ دواء بلکہ عین وباء ہوتے ہیں °
اور یہ وباء دو افراد کے بیچ سے اٹھتی ہے اور دو خاندانوں میں پھیل کر ہر عزت و شرافت کو تہس نہس کر دیتی ہے
نفسِ محبت کی حقیقت کا انکار ممکن نہیں مگر فی زمانہ فلموں ڈراموں ناولوں کو دیکھ کر خود کو بڑا محبوب و محب شمار کرنا فیشن بن گیا ہے
یعنی محبت ہوجانا نہیں بلکہ زور زبردستی سے کرنا فیشن بن گیا ہے
اور آج کل یہ کام ویلے فضول نکھٹو لوگوں کا شعار ہے
جو نہ کمائی کرتے نہ گھر سنبھالتے ہیں بلکہ باپ کی کمائی پر پلتے ہیں اور خالی دماغ پھر شیطان کا گھر ہوتا ہے تو ان کو کرنے کے لیئے سوائے وباء (محبت) کے کچھ نظر نہیں آتا تو یہی چاند چڑھا کر خاندان و معاشرے میں زلزلہ برپا کر دیتے ہیں
اور کچھ دکھی روحیں بن کر زندگی جیتے ہیں
اے عزیز
- راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا •
آپ مسافر ہیں حالتِ سفر میں ہیں اپنا سفر طے کریں ایمان پر خاتمے کی جستجو کریں
اے جانِ برادر یقین کر کہ ایمان سلامت لے گئے تو دنیاوی محبوب سے لاکھ گنا زیادہ حسین و جمیل محب اور بے شمار محبوب ملیں گے
دنیا دار الامتحان ہے جو امتحان سر پر ہے وہی پاس کر لو بڑی بات ہے نیا بوجھ سر پر سوار نہ کر اسی میں دنیا و آخرت کی بھلائی ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
