طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 95
ابن جوزی نے فرمایا
وينبغي للإنسان أن يعلمَ أن أعزّ الأشياء شيئان قلبه ووقته فإذا أهمل وقته وضيّع قلبه ذهبت الفوائد
انسان کو لازمی طور پر جان لینا چاہیئے کہ اشیاء میں سے دو چیزیں سب سے زیادہ قیمتی ہیں اس کا دل اور اس کا وقت
جب انسان وقت فضول گزارے گا اور دل ضائع کرے گا تو سب کچھ گنوا دے گا
❗صید الخواطر لابن الجوزی ❗
وقت ضائع کرنے سے مراد طالبِ علم ہے تو سبق نہ یاد کرنا تاجر ہے تو وقت پر دوکان نہ کھولنا الغرض غفلت اور کھیل کود میں مصروف رہنا
آج کل موبائل کا بے جا استعمال کرنا
جس بھی طرح کی ذمہ داری ہے اس میں سستی کرنا خواہ باپ ہو یا بیٹا , استاذ ہو یا طالب علم , خریدار ہو یا دوکاندار اپنے کام وقت پر نہ کرنا وقت ضائع کرنا ہے
اور دل ضائع کرنے سے مراد
نا اھل کو دل دینا
دل میں فضول تصورات جمائے رکھنا
دل میں لا یعنی باتیں سوچنا
دل کو دنیا کی محبت سے بھر لینا
دل کو امیدوں سے پُر کر لینا
دل کو خیالِ غیر سے بھرنا
دل کو دنیاوی غم و آلام سے بھرے رکھنا
ایک اہم ترین بات یاد رکھیں
انسان اصل میں دل ہی ہے اگر دل ضائع تو انسان ضائع و بس
کیونکہ دل جسم کا بادشاہ ہوتا ہے
اور وقت کے بارے ایک بزرگ نے فرمایا
وقت تیرے جسم کا حصہ ہے جتنا گزرتا جا رہا ہے تیرے جسم کا حصہ کٹتا جا رہا ہے
وقت اور دل دونوں اہم ترین چیزیں ہیں آپ غور کریں ان کے ساتھ کیسے پیش آ رہے ہیں ؟
لہذا وقت اور دل کسی نا اھل کو ہرگز مت دیں
اور طالبِ علمِ دین کا وقت تو سونے چاندی یاقوت و کافور سے قیمتی ہے
ایک سچا طالبِ علمِ دین کبھی وقت ضائع نہیں کرتا کبھی ٹھٹھے مذاق کی مجالس میں بیٹھ کر متاعِ جاں نہیں لُٹاتا
کبھی موبائل و سوشل میڈیا کو سر پر سوار نہیں کرتا
اھلِ عرب کا مقولہ ہے
الوقت كالسيف إن لم تقطعة قطعك
وقت تلوار کی طرح ہے تم اسے کاٹ دو ورنہ وہ تمہیں کاٹ دے گا
اور وقت جسے کاٹتا ہے اسے کہیں کا نہیں چھوڑتا
وقت کو ضائع کرنے والے شہنشاہ بھی ہوں تو ایک وقت آتا ہے فقیر بن جاتے ہیں
صبح کے تخت نشین شام کو مجرم ٹھہرے
ہم نے پل بھر میں نصیبوں کو بدلتے دیکھا
✍️ #سیدمہتاب_عالم
