طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 94
اقبال نے کہا
نشہ پلا کے گرانا تو سب کو آتا ہے
مزا تو تب ہے کہ گرتوں کو تھام لے ساقی
اساتذہ میں سے بہترین استاذ وہ ہے
جو تلمیذ (طالب علم) کو علم دے ساتھ ظرف بھی دے
علم دے ساتھ اختلاف بھی اچھے طریقے سے کرنے کا فن دے
علم دے ساتھ قلب میں وسعت دے
علم دے ساتھ عاجزی بھی دے
علم دے ساتھ علم برداشت کرنے کا حوصلہ دے
کیونکہ بہترے طالبِ علم ایسے ہوتے ہیں جن کا علم زیادہ اور ظرف کم پڑ جاتا ہے پھر وہ ہمعصر علماء کو کم تر سمجھنا شروع ہو جاتے ہیں
کامیاب استاذ وہ ہے جو تلمیذ کو علوم و فنون کا ماہر بنا کے منکسر المزاج بنائے
علم کا پہلا مرحلہ غرور تکبر ہوتا ہے علم کہیں سے مل جائے شروع شروع میں کِبر لاتا ہے
علماء پر تعلیاں نہ بھی مارے ہم عصر ہم سبق طلباء کو کم تر سمجھتا ہے
❗ لطیفہ ❗
میری زندگی کے عجائب میں سے ایک عجیب بات یہ بھی ہے جس کی مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی
دورہ حدیث شریف کی ایک شام جامعہ کے صحن میں کھڑا تھا
ایک ہم سبق ذہین و فطین صاحب تھے
میرے پاس آئے ایک جملہ کہا اور چلے گئے میں اُس وقت بھی ہکا بکا رہ گیا آج تک بھی نہیں سمجھ پایا کہ کیوں کہا
کہنے لگے
المعاصرۃ سبب المنافرۃ
ہم عصر ہونا باہم نفرت کا سبب ہوتا ہے
یعنی جو علماء ہم عصر ہوتے ہیں ان کی آپس میں چپقلش چلتی رہتی ہے
اسی وجہ سے محدثین نے ہم عصر علماء کی ایک دوسرے پر جرح کا اعتبار نہیں کیا
میں ان کا مقصد تو سمجھ گیا مگر اس بے وجہ بے محل بات کو آج تک نہیں سمجھ سکا
کامیاب استاذ وہ ہے جو اپنے طلباء کو منافرت و تعصب سے ہٹا کر معتدل منصف مزاج محقق بنائے
کامیاب استاذ وہ ساقی ہے جو علم کے جام پلاتا ہے اور نشہَ علم میں مست طلباء کو نہ بہکنے دیتا ہے نہ گرنے دیتا ہے
اور یہ وہ استاذ ہوتا ہے جو طلباء کو مادیت سے ہٹا کر تصوف کے رستے پر چلائے
کیا آپ کامیاب استاذ ہیں؟
✍️ #سیدمہتاب_عالم
