علماء کا اختلاف نہ کہیں بلکہ وسعت کہیں

طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 96

°°° وہ لذت جو شہزادوں کو بھی نصیب نہیں °°°

تذكرة الحفاظ میں امام ذھبی نے یحییٰ بن سعید کا فرمان نقل کیا

أهل العلم أهل توسعة وما برح المفتون يختلفون فيحلل هذا ويحرم هذا فلا يعيب هذا على هذا ولا هذا على هذا وإن المسألة لترد على أحدهم كالجبل فإذا فتح له بابها قال ما أهون هذه
اھلِ علم وسعت والے ہیں
ہمیشہ سے مفتیانِ امت کا اختلاف رہا ہے
یہ مفتی کسی شے کو حلال کہتا ہے تو وہ دوسرا حرام کہتا ہے
یہ اُس پر عیب نہیں لگاتا وہ اِس پر عیب نہیں لگاتا
اور کبھی تو ایک مسئلہ مفتی پر پیش آتا ہے اسے پہاڑ کی طرح لگتا ہے اور جب اس مسئلے کا حل نکل آتا ہے تو کہتا ہے یہ تو بڑا آسان تھا
❗تذکرۃ الحفاظ للذھبی❗

مذکورہ عبارت کو بار بار ہزار بار پڑھیں
تعصب کا بھوت اتر جائے گا
ایک مفتی کا حلال کہنا دوسرے کا حرام کہنا عناد کی وجہ سے نہیں بلکہ علمی استعداد و صلاحیت کی بناء پر ہوتا ہے

یحییٰ بن سعید کا آخری جملہ

وإن المسألة لترد على أحدهم كالجبل فإذا فتح له بابها قال ما أهون هذه
اور کبھی تو ایک مسئلہ مفتی پر پیش آتا ہے اسے پہاڑ کی طرح لگتا ہے اور جب اس مسئلے کا حل نکل آتا ہے تو کہتا ہے یہ تو بڑا آسان تھا

یہی بتاتا ہے کہ کسی پر مسئلہ جلد واضح ہوتا ہے کسی پر جلد نہیں بلکہ دیر سے واضح ہوجاتا ہے
❗ لطیفہ ❗
فقہ حنفی کے تیسرے بڑے فقیہ امام محمد ساری رات ایک مسئلہ کی تلاش میں کتب کی ورق گردانی کرتے جب مسئلہ حل ہو جاتا تو فرماتے
یہ دولت جو ہمیں نصیب ہے نرم و نازک بستروں پر سونے والے شہزادوں کو کہاں نصیب
اس لذت و راحت کا تجربہ ان طلباء و علماء کو ہوتا ہے جو گوگل سرچ کی جگہ کتب کی ورق گردانی کرتے ہیں
جب مسئلہ حل ہو جاتا ہے تو اس وقت جو راحت و سکون ملتا ہے وہ بیان سے باہر ہوتا ہے ❗❗

تو اتنی محنت سے علم حاصل کرنے والا اگر غلطی تو اس عالم کو طعن و تشنیع کرنا اور اپنے مقتداء و رہنماء کو ہمیشہ حق پر ماننا مزاجِ اسلام اور علماءِ اسلام کی تعلیمات کے بالکل خلاف ہے
بلکہ علماء کرام کا اختلاف کہنا ہی بعض اکابر علماء کو ناپسند تھا کہ
علماء کا اختلاف کہنے کی بجائے وسعت دینا کہنا پسند کرتے تھے
طلحہ بن مصرف نے فرمایا

لا تقولوا الاختلاف ولكن قولوا السعة
تم لفظِ اختلاف نہ کہا کرو ہاں مگر وسعت کہا کرو
❗حلية الاولياء ❗

یعنی علماء کرام کے باہمی حلال و حرام کے اختلاف کو لفظِ اختلاف سے تعبیر کرنے کی بجائے لفظِ وسعت بولا کرو
( یعنی عوام کو آسانی دینا)

یہ تب ہوتا ہے جب سامنے والے کو عالم سمجھا جائے
اس کے علم و فضل کا اعتراف ہو
دینی مسائل کے اشتغال میں لِلّٰھیت ہو
مگر ہمارے دور میں تو صرف خود کو عالم سمجھا جاتا ہے
صرف خود کو دین سے مخلص شمار کیا جاتا ہے
اسی وجہ سے سامنے والا خواہ کیسا مضبوط و دیانت دار عالم ہو اسے کچھ بھی نہیں سمجھا جاتا
یہ بدمزاجی عموماً تعصبِ مذہبی, تعصبِ استاذی, تعصبِ جامعاتی, تعصبِ تنظیمی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے
طلباء کو چاہیے اپنے استاذ و جامعہ کو اہمیت دیں مگر اس کی وجہ دوسرے علماء و جامعات کو مٹی و ہوا سمجھنے کا جرم نہ کریں
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top