الحب_و_العشق 22
°°° کیا نکاح سے محبت ختم ہوجاتی ہے °°°
اعتلال القلوب میں ہے
امام شعبی فرماتے ہیں کہ ہم خارجہ بنت الصلت التمیمی کے پاس جا کر حدیث کا علم پڑھتے
تو میرے دل میں خارجہ کے لیئے کچھ جذبہ سا پیدا ہوگیا
کیونکہ میں ان سے زیادہ عقل مند اور گفتگو میں بہتر کوئی نہیں دیکھا تھا
ایک دن میں ان کے پاس عادت سے ہٹ کر کسی اور وقت میں گیا تو ہم نے کافی باتیں کیں
اسی وقت میں نے کہا اے خاتون دل اس میں الجھ گیا ہے جس میں لوگوں کے دل الجھ جاتے ہیں
تو آپ کا کیا خیال ہے وہ کام نہ کر لیا جائے جو اللہ نے حلال کیا ہے؟
یعنی نکاح کر لیں
انہوں نے کہا آپ سے کون دور ہونے کی تمنا کرے گا
مگر بات یہ ہے
ما نکح حب قط الا فسد
محبت جب نکاح میں آتی ہے تو فاسد ہوجاتی ہے
یہ مقولہ اھل عرب میں مشہور ہے کہ محبت نکاح میں آئے تو فاسد ہوجاتی ہے
اور یہ بات کافی حد تک درست بھی ہے
° اس لیئے محبوب حاصل نہ ہو تو محبت بچ جاتی ہے اور محبوب حاصل ہو جائے تو محبت نہیں بچ پاتی °
بقول شاعر
جب تک ملے نہ تھے جدائی کا تھا ملال
اب یہ ملال ہے کہ تمنا نکل گئی
آپ دو میں سے ایک بچا سکتے ہیں
اھل عرب ایک اور مقولہ کہتے ہیں الزواج مقبرۃ الحب یعنی شادی محبت کی قبر ہے
یعنی جب شادی ہوگی تو محبت ختم ہو جائے گی
اگر کوئی اعتراض کرے کہ حدیث پاک میں تو یوں آیا
لیس للمتحابین مثل النکاح
یعنی دو محبت کرنے والوں کے لیئے نکاح سے بہتر کوئی چیز نہیں ہے
تو آپ کیسے کہ سکتے ہیں کہ شادی محبت کو فناء کر دیتی ہے؟
ہم جواباً کہیں گے حدیث پاک کا مطلب ہے کہ اگر ان کا نکاح نہ ہوگا تو گناہ میں پڑ جانے کا اندیشہ ہے
محبت حاصل نہ ہو کتنے عقل مند مجنون بن جاتے ہیں
° کام کے لوگ بے کار ہوجاتے ہیں °
ماں باپ کے لیئے عار بن جاتے ہیں
یوں معاشرے میں فساد برپا ہوجاتا ہے
تو ان بیسیوں خرابیوں کا ایک ہی علاج ہے اور وہ نکاح ہے اگرچہ نکاح سے پہلے والی شدت باقی نہ رہے
یاد رہے امام شعبی کی جلالت علمی تاریخ اسلام میں ایسی ہے جیسے آسمان پر چاند ہو
محبت کسی کو کسی سے کسی وقت ہوجاتی ہے اس معاملے میں محبت کرنے والے کو ترچھی نگاہوں سے دیکھنا طعنے مارنا حماقت و رذالت ہے
کیونکہ محبت جرم نہیں محبت میں حرام کاری جرم ہے
ہمارے نزدیک غیرِ حاصل محبت ایک شعلہ ہے جو اندھیروں میں راہ روشن کرتا ہے
غیرِ حاصل محبت ایک جذبہ ہے جو دنیا فتح کروا دیتا ہے
غیرِ حاصل محبت ایک جنوں ہے جو ہر فسوں کو ناکارہ کر دیتی ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
