قبورِ اولیاءِ کرام


تصوف_و_صوفیاء 81

تاریخِ بغداد میں خطیب بغدادی نے ایک مستقل باب باندھا ہے
باب ما ذكر في مقابر بغداد المخصوصة بالعلماء والزهاد
بغداد میں علماء و زھاد کے ساتھ مخصوص مقابر کے ذکر کے بارے باب
اس میں ہے کہ احمد بن عباس فرماتے ہیں میں بغداد والوں کے گناہوں سے ڈر کے وہاں سے نکلا کہ کہیں زمین نہ دھنسا دی جائے تو مجھے راستے میں ایک عبادت گزار شخص ملا وہ کہنے لگا
کہاں جا رہے ہیں ؟
میں نے بتایا کہ ان میں کثیر فساد پیدا ہو گیا ہے کہیں زمین نہ دھنسا دی جائے وہ کہنے لگا
ارجع ولا تخف فإن فيها قبور أربعة من أولياء الله هم حصن لهم من جميع البلايا قلت من هم؟ قال ثم الإمام أحمد بن حنبل، ومعروف الكرخي، وبشر الحافي، ومنصور بن عمار
واپس لوٹ جاؤ اور ڈرو نہیں کیونکہ بغداد میں چار اولیاء کرام کی قبریں ہیں جو ان کے لیئے بلاؤں سے حفاظت کی پناہ گاہیں ہیں
میں نے پوچھا وہ کون ہیں
کہنے لگا
احمد بن حنبل
معروف کرخی
بشر حافی
منصور بن عمار
فرماتے ہیں میں واپس لوٹ آیا اور ان قبور کی زیارت کی پھر بغداد سے نہ نکلا
❗ تاریخِ بغداد جلد ١ ص ٤٤٣ ❗

اولیاء کرام کی قبور زہرِ دنیا کا تریاق ہے
وہاں دعائیں قبول ہوتی ہیں
ان کے صدقے بلائیں دور ہوتی ہیں
با ادب نظریں جھکا کر مرد حاضری دیں اور بغیر کسی شے کو چھوئے واپس آ جائیں
مزارات پر عورتوں کا جانا حرام ہے اور مَردوں کو احاطہ کی اشیاء کو چھونا مکروہ ہے
عورت صرف جنابِ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے مزار اقدس پر حاضر ہو سکتی ہے
کسی ولی کا فیض لینا ہو تو روز ان کو ایصالِ ثواب کریں ان شاءاللہ وہ نظرِ کرم فرمائیں گے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top