اسلامی_طرزِتربیت 25
شادی شدہ مرد ضرور پڑھیں
اللہ رب العزت کا فرمان ھے
وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً
اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے تمہاری جانوں سے جوڑے پیدا کئے تاکہ تم انکی طرف سکون پاؤ اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھی
اللہ تعالیٰ نے مرد کو بہت طاقتور بنایا مگر اسکا سکون و چین صنف نازک میں رکھا
فرمایا
لتسکنوا الیھا
کہ تم ان خواتین سے سکون حاصل کرو
جب پہلی وحی اقرء باسم ربک نازل ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کانپتے ہوئے سیدہ خدیجہ کے پاس تشریف لے گئے
فرمایا زملونی زملونی مجھے چادر اٹھاؤ
یہ اس لئیے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دانائے اعظم ہیں جانتے ہیں کہ بیوی سکون دیتی اور راحت کا سبب ہوتی ھے
لہذا آپ شادی شدہ ہیں تو پریشانی کے عالم میں بیوی کے پاس بیٹھنا چاہئے
عقلمند بیوی سکون دیتی ھے مزید پریشانی نہیں بڑھاتی
تفسیر قرطبی میں سیدی عبد اللہ ابن عباس سے منقول ہے کہ
مذکورہ آیات میں مودۃ سے مراد یہ ہے کہ مرد عورت سے محبت کرے اور رحمت سے مراد یہ ہے کہ مرد عورت کو تکلیف نہ ہونے دے
میاں بیوی کا رشتہ اللہ کی خاص عطاء ھے
مرد اپنی انا و خودی مٹا کر پریشانی میں بیوی سے رجوع کرے گا تو قرآن کے مطابق سکون پائے گے
مگر ہمارے معاشرے میں عجب ڈرامہ بنا دیا گیا کہ شوہر بیوی سے رجوع کرے یا پریشانی میں اسکی جانب بڑھے تو لوگ عجب قسم کے خیالات کا اظہار کرتے اور نام رکھتے ہیں
کسی کی پرواہ نہ کریں بیوی سے محبت کا اظہار کریں عزت دیں ہنسی مزاح کریں سکون پائیں گے
حلال کی برکت سے دل میں نرمی پیدا ہوتی ہے
امام نووی نے اربعین میں لکھا کہ علماء نے فرمایا
سائر الشھوات یقسی تعاطیھا القلب الا شھوۃ الجماع فانھا ترقق القلب
جب دل سخت ہونے لگے اس نسخے پہ عمل کریں دل سکون بھی پائے گا اور نرم بھی رہے گا
لفظِ بیت کا لغوی معنیٰ پناہ گاہ ہے
دوسرا معنی رات گزارنا بھی بنتا ہے
کیونکہ انسان رات کو اس میں پناہ لیتا ہے اسی وجہ سے اسے بیت کہتے ہیں
عموماً بیت کا معنی گھر کیا جاتا ہے
ایک بڑی لطیف بات ہے
اھلِ عرب بیوی کو بھی بیت کہتے ہیں
بیت الرجل
یعنی مرد کا گھر
یہ بول کر اس کی بیوی مراد لیتے ہیں
کیونکہ وہی عورت بیوی کہلانے کی حقدار ہے جو مرد کے لیئے پناہ گاہ ہو
بڑے بڑے سورما جب ٹوٹ جاتے ہیں بیوی کی گود ان کو حوصلہ دیتی ہے
ہمارے معاشرے میں دونوں طرف سے غلط مفہوم سمجھا جاتا ہے
مرد اپنی مردانگی صرف اونچا بولنے اور منہ پھلا کر رکھنے میں اور بچے پیدا کرنے میں جانتا ہے
جبکہ عورت کی غلطی ہر وقت بلکہ خاص طور پر شوہر کے سامنے گندی مندی بن کے رہتی ہے
اور دیگر خاندان کے سامنے بن سنور کے رہتی ہے
جہاں بننا سنورنا بنتا ہے وہاں تیار نہیں ہوتی اور جہاں بنتا نہیں وہاں بن ٹھن کے جاتی ہے
تو شوہر ایسی عورت سے اعراض ہی کرے گا
دنیا کے بہادروں کے سردار دو عالم کے مختار حبیبِ پروردگار صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ خدیجہ الکبریٰ کے دامن میں سکون پاتے تھے
سیدہ عائشہ صدیقہ کی گود میں وصال فرمایا تھا
اس سے بڑی کیا مثال پیش کی جائے ؟
عورت سے مسکرا کے بات کرنا اور اس کے دامن میں سکون و اطمینان تلاش کرنا بڑے لوگوں کا کام ہے
ذلیل و خسیس لوگ عورت کو کام کی مشین سمجھتے ہیں
ایک روایت کا خلاصہ بھی ہے کہ عورت کو ذلیل وہی سمجھتا ہے جو خود ذلیل ہو
معزز بنیں اور عزت دیں
اگر اپنی بیوی کو عزت نہیں دے رہے تو آپ ذلیل و خسیس ہیں
✍️ #سیدمہتاب_عالم
