گلے میں ٹائی اصل میں پَٹَّا ہے

اسلامیطرزِتربیت 24

اتحاد نہ کرنے کی نحوستیں

امام جلال الدین سیوطی نے تاریخ الخلفاء میں لکھا ھے

ہارون الرشید کے پوتے متوکل نے اپنے دور میں عیسائیوں پر لازم کیا تھا کہ وہ بطور پہچان اپنے گلے میں رومال باندھا کریں

تاکہ مسلمان اور عیسائی میں فرق ہو جائے

یوں چار بندوں میں بیٹھا عیسائی با آسانی پہچان میں آجاتا تھا

عیسائیوں نے اُس کا بدلہ یوں لیا کہ وہی پَٹَّا وہی رومال ٹائی کی صورت میں مسلمانوں پہ فیشن کے نام پہ مسلط کر دیا

ٹائی دَر حَقِیقَت متوکل کی طَرَف سے عیسائیوں پر غلامی کا پَٹَّا تھا

اور وہی پَٹَّا عیسائیوں نے روشن خیال مسلمانوں کے گَلے میں باندھ دیا

یعنی مسلمان اب عیسائی کی غلامی پہ خوش ہیں

اب الگ بات ھے ٹائی کو فیشن کا نام دیں یا دفتری یا کالج یونیورسٹی کا یونیفارم قرار دیں

بہر صورت یہ عیسائیوں کا پَٹَّا ہے

اور پَٹّا کسی انسان کے گلے میں تو نہیں ہوتا نا “`

آزاد مؤمن کبھی جھکتا نہیں غلامی کا طوق پہننا تو دور کی بات ہے
ایک اصول ہمیشہ ذہن میں رکھیں
انسان کے جو اندر ہوتا ہے وہی اس کے ظاہری جسم پر نظر آتا ہے
اندر کا غلام باہر سے بھی غلامانہ حلیہ اپناتا ہے
مسلمانوں میں اجتماعیت نہیں ہم میں اتفاق نہیں اِن میں توکل و قناعت اور یقین و ایمان کی کمزوری ہے
ورنہ کامل الایمان انسانوں کے معاشرے میں غیر اسلامی شے کا نفاذ ممکن ہی نہیں
دو وقت کی روٹی اور اولاد کے لیئے سہولیات کے چکر میں ایمان کا سودا کرنا ضعیف الایمان (کمزور ایمان والے) کی نشانی ہے
اسکولز و کالجز و دفاتر میں پینٹ شرٹس اور گلے میں پٹا (ٹائی) نافذ کر دیا گیا ہے
یہ اصل میں مجموعی طور پر ایمان کی کمزوری تھی
اتحاد ہوتا تو اسکولز میں پڑھنے اور دفاتر میں کام کرنے سے انکار کر دیا جاتا
انہوں نے اسکولز تو چلانے تھے
دفاتر تو آباد کرنے تھے
تو آپ کی بات بھی مانی ہی جاتی
مگر اتحاد نہ ہونے کی وجہ سے کوئی بھی آتا ہے کچھ بھی ہم پر مسلط کر جاتا ہے
جبکہ ایمان والوں اتحاد کا اتنا شدید حکم دیا گیا ہے کہ دن میں پانچ بار کندھے سے کندھا ملا کر اپنے اتحاد کا مظاہرہ کریں`
اور یہاں اتحاد پارہ پارہ ہے

⁦✍️⁩ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top