علم والے عاجزی میں رہیں

طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 156

قتادہ امام المفسرین ہیں
نہایت ذہین و فطین تھے
ایک بار کہنے لگے
ما سَمِعتُ شيئاً قط إلا حَفظتُه ولا حَفِظتُ شيئاً قطّ فَنَسيتُه
میں نے جب بھی کوئی شے سنی اسے یاد کر لیا اور جب کسی شے کو یاد کر لیا تو کبھی اسے بھولا نہیں
پھر امام قتادہ کہنے لگے
اے غلام میرے جوتے لاؤ تو غلام کہنے لگا جوتے تو آپ کے پاؤں میں ہیں
یوں وہ شرمندہ ہو گئے

❗ العِقد الفريد لابن عبدربه الأندلسي ❗
اگر امام قتادہ ہوں کہتے کہ الله کی رحمت سے میرا حافظہ اتنا مضبوط ہے تو یہ شرمندگی نہ اٹھانی پڑتی
جب بندہ نعمتوں پر مُنعمِ حقیقی تبارک و تعالیٰ کو بھول جائے تو یونہی پریشانی اٹھاتا ہے
یہی امام قتادہ جب کوفہ گئے تو علمی دعویٰ کیا سلوا عما شئتم مجھ سے جو چاہو پوچھ لو
امام اعظم ابو حنیفہ موجود تھے انہوں نے پوچھا
سلیمان علی نبینا و علیہ الصلاۃ والسلام کے قصے میں مذکور چیونٹی مذکر تھی یا موئنث
تو قتادہ خاموش ہو گئے
امام اعظم نے عرض کیا
وہ موئنث تھی
امام قتادہ نے فرمایا
تم نے کیسے جانا
امام اعظم نے عرض کیا
کیونکہ الله رب العزت نے چیونٹی کے ذکر پر فرمایا
قَالَتْ نَمْلَةٌ
نملة مؤنث ہے
❗ تفسیر رازی ❗
اس پر بعض علماء نے اعتراض کیا کہ یہ ۃ وحدت ہے تانیث کی نہیں ہے لہذا امام اعظم کا اس بناء پر چیونٹی کو مؤنث کہنا درست نہیں تھا
تو امام اعظم کی طرف سے جواب دیا گیا
قالت مؤنث کا صیغہ ہے
بہر حال دو جگہ امام قتادہ لاجواب ہوئے
اپنے حسین و علیم و عقیل و جسیم و زعیم ہونے کی نسبت اپنی طرف مت کریں
الله رب العزت کو بندے کی انا پسند نہیں
تفویض پسند ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top