غلام زادے علم والے

طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 155

*امام اعظم ابو حنیفہ فرماتے ہیں
حج کے پانچ مسائل میں نے ایک *حجام* سے سیکھے ہیں
وہ یہ کہ میں حلق کروانے گیا تو حجام کو کہا کتنے پیسے لو گے؟
کہنے لگا
آپ عراقی ہیں؟
میں نے کہا جی ہاں
حجام کہنے لگا
حج میں شرط نہیں لگائی جاتی
بیٹھ جاؤ
میں قبلہ کی طرف رخ کیئے بغیر بیٹھ گیا
حجام کہنے لگا
قبلہ کی طرف منہ کریں
میں نے سر کی بائیں جانب آگے کر دی
حجام کہنے لگا
سر کی دائیں جانب سامنے کریں
میں نے دائیں جانب کر دی اور خاموشی سے بیٹھ گیا
حجام کہنے لگا
تکبیرات کہتے رہیں
جب فارغ ہو گئے تو میں جانے کے لیئے کھڑا ہوا تو حجام کہنے لگا کیا کرنا چاہتے ہو ؟
میں نے کہا جانے لگا ہوں
حجام نے کہا
پہلے دو رکعتیں پڑھیں پھر جائیں
میں نے سوچا اس سے زیادہ عقلمند حجام میں نے نہیں دیکھا تو پوچھا تم نے مجھے ان باتوں کا حکم کہاں سے دیا
کہنے لگا
میں نے عطاء بن ابی رباح کو یہ سب کرتے دیکھا ہے
« وفيات الأعيان ج ٣ ص ٢٦٢ »

تاریخِ اسلام پڑھیں آپ کو اکثر علماء و فقہاء و محدثین غلام و غلام زادے اور عجمی ملیں گے
سردار اپنی سرداری کے زعم میں علم کی مشقتیں نہیں اٹھاتے تو پیچھے رہ جاتے ہیں
حدیثِ مبارکہ میں ہے
الكلمة الحكمة ضالة المؤمن فحيث وجدها فهو أحق بها
حکمت کی بات مومن کا گمشدہ خزانہ ہے تو جہاں سے پائے وہ اس کا زیادہ حقدار ہے
❗ ابن ماجہ شریف ❗
*ھارون الرشید* کی بیوی نے دیکھا کہ ان کی قافلے کو چلانے کے لیئے سپاہی ہیں جو لوگوں کو ہٹا رہے ہیں نظم و ضبط قائم کر رہے ہیں
پھر دیکھا لوگ ایک طرف دوڑ پڑے ایک باوقار عالم ظاہر ہوئے ان کے ہاتھ پاؤں چوم رہے ہیں
پوچھا یہ کون ہیں
کسی نے کہا
یہ خراسان کے عالم عبد الله بن مبارک ہیں
کہنے لگی
اصل بادشاہ تو یہ لوگ ہیں

جو علم حاصل کرے مصائب و آلام سہے وہ بادشاہ سے بڑا بادشاہ بن جاتا ہے خواہ غلام زادہ ہو
مگر شرط ہے کہ خاندانی خصائل کو پہلے مٹائے
اسلام نے کسی طبقے کو علم سکھانے کی ممانعت نہیں کی مگر وہ کہ جو کمی اعلی خاندانوں پر بڑائی جتائیں
گھٹیا پن اعلی خاندان کے کسی فرد میں بھی آ سکتا ہے اور اعلی پن گھٹیا خاندان کے فرد میں بھی آ سکتا ہے
الله رب العزت کا فرمان ہے
یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ یُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ
وہی ہے جو مردہ سے زندہ کو نکالتا ہے اور وہی ہے جو زندہ سے مردہ کو نکالتا ہے
امام اصمعی فرماتے ہیں
دو بھائی آپس میں جھگڑا کر رہے تھے
ایک کہنے لگا خدا کی قسم میں تمہاری ہجو {برائی بیان} کروں گا
دوسرا کہنے لگا
کیسے کرو گے
ہمارے ماں باپ تو ایک ہی ہیں
پہلا کہنے لگا
لئيمٌ أتاه اللؤم من ذات نفسهِ
ولم يأته من إرثِ أمٍ ولا أبِ
وہ ایسا کمینہ ہے کہ کمینگی اس کی اپنی ذاتی سے آئی ہے نہ باپ سے وراثت میں آئی ہے نہ ماں سے وراثت میں آئی ہے
« حماسة الظرفاء ص ٣٣ »

کسی خاندان کی علم و تحقیق پر اجارہ داری نہیں ہے مگر گھٹیا خاندان والے اپنی گھٹیا حرکات کی وجہ سے عموماً علم سے محروم ہو جاتے ہیں اور اگر علم حاصل کر لیں تو گنجے کے ناخن کی طرح نقصان دہ ہوتے ہیں
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top