طبیب سے دوری ہلاکت تک پہنچا دیتی ہے

تصوف_و_صوفیاء 83

إمام ابن عجيبة فرماتے ہیں

صلينا كثيرا، وصمنا كثيرا، واعتزلنا كثيرا وذكرنا كثيرا، وقرأنا القرآن كثيرا، والله ما عرفنا قلوبنا ولا ذقنا حلاوة المعاني حتى صحبنا الرجال أهل المعاني، فأخرجونا من التعب إلى الراحة، ومن التخليط إلى الصفاء، ومن الإنكار الى المعرفة
ہم نے کثیر نمازیں پڑھیں کثیر روزے رکھے لوگوں سے بہت دور رہے کثرت سے ذکر کیا کثرت سے تلاوتِ قرآن پاک کی خدا کی قسم ہم دلوں میں معرفت نہیں پا سکے نہ معانی کی حلاوت محسوس کر سکے جب ہم نے اھلِ معانی { اولیاءِ کرام} کی صحبت میں پہنچے تو انہوں نے ہمیں تھکاوٹ سے نکال کر راحت اور خلط ملط علم سے نکال کر معرفت تک پہنچا دیا
❗ *ایقاظ الھمم لابن عجيبة* ❗
صحبتِ ولی کامل میں ایک لمحہ بیٹھنا روحانیت کے بے شمار باب کھول دیتا ہے
یہ دنیا
ظاہر و باطن
روحانیت و مادیت
دین و دنیا
تحت الاسباب و فوق الاسباب
مرئی و غیر مرئی
پر قائم ہے
ظاہر و مادیت و تحت الاسباب کو دیکھنا اور باطنی و غیر مرئی کو بھول جانا نادانی ہے
قرآن کریم میں رب العالمین قسم یاد فرماتا ہے
فَالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًا
پھر کائنات کا نظام چلانے والوں کی قسم
نظامِ کائنات ظاہری طور پر حکام و سلاطین اور معاونینِ حکومت چلاتے ہیں اور باطنی طور پر فرشتے اور روحانی طور پر اولیاء کرام چلاتے ہیں

ظاہری نظام خراب ہو تو حکومتی کارندے ٹھیک کرتے ہیں
باطنی نظام ملائکہ کے سپرد ہے
روحانی نظام خراب ہو تو اولیاء کرام درست فرماتے ہیں
جیسی خرابی ہو اُس کے درست کرنے والے ماہر کے پاس حاضری دی جاتی ہے
جب زندگی بے سکونی و بے قراری میں گزر رہی ہو تو مرشدِ کامل کی بارگاہ میں حاضری دیں
مرشدِ کامل روحانی طبیب ہوتے ہیں
عبادات میں ریاء کا مرض ہو یا روحانیت کمزور ہو روحانی طبیب دوا کرتا ہے
بیماری کی حالت میں طبیب سے دوری ہلاکت تک پہنچا دیتی ہے
جسمانی بیماری ہو تو موت تک روحانی بیماری ہو تو جہنم تک پہنچا دیتی ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top