ذلت کا تمغہ

تاریخِ_اسلامی 32

عروجِ مسلم کا حسین دور

نیچے دی گئی تصویر میں جو آپ دیکھ رہے ہیں وہ مسلمانوں کی شان و شوکت کی نشانی ہے
اور ہمارے عروج کی عظیم داستان ہے

یہ تاریخی تمغہ ہے

جو الجزائر کی طرف سے فرانس کے بادشاہ لوئس XIV کو بطورِ ذلت پیش کرتے ہوئے ان کی توہین کی یاد میں ہے
کہ تم ھم سے کسی صورت جنگ نہیں جیت سکتے نہ ہم سے ھماری آزادی چھین سکتے ہو

جی ہاں
یہ ایک طنزیہ تمغہ ہے

جو 1689 کا ہے
یہ تمغہ 2007 میں جرمنی میں 3000 یورو میں فروخت ہوا تھا
یہ تمغہ دونوں فریقوں کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کے ذریعے الجزائر کی فرانس کی توہین کی یاد دلاتا ہے
اس میں صاف نظر آرہا ہے کہ ایک عربی ایک فرانسیسی شخص کو پکڑ کر اس کے منہ سے سونا نکلوا رہا ہے
اور فرانسیسی کا نیچے سے پاخانہ نکل رہا ہے
یہ لوئس کو پیغام تھا کہ ھم مسلمان طاقت کے بل پر تمہیں گھٹنوں کے بل گرا سکتے ہیں
وہ ہمارا عروج تھا اور اب زوال ہے کہ آئی ایم ایف ہمیں کسی بھی وقت گھٹنوں کے بل گرا سکتا ہے
کیونکہ ہمارے حکمرانوں میں آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کا دم ختم نہیں ہے
یاد رکھیں
قوموں کی عزت و ذلت کا فیصلہ مال و دولت کرتے ہوں گے مگر مسلمانوں کی عزت و ذلت کا فیصلہ ایمان کی قوت سے ہوتا ہے

سیدمہتاب_عالم# ✍️

Scroll to Top