جب شراب خانوں میں مدارس کھولے گئے

تاریخِ_اسلامی 27

اگر یہ پابندیاں پاکستانیوں پر لگتیں تو ؟

موجودہ اسپین کے جس گرجا گھر کی دیوار کو کھرچا جائے تو نیچے سے قرآن کی آیات و احادیث و عربی عبارات لکھی ہوئی ظاہر ہوں گی

مسلمانوں نے یورپ کو جہالت کی تاریکیوں سے نکال کر علم کے اجالے دیئے
لیکن اندھے اور جاہل یورپ نے
جب ہاتھ پڑا تو مسلمانوں کی نسل کشی کی اور مساجد کو شہید کیا
یا
مساجد کی دیواروں سے نقوشِ اسلامیہ مٹا کر چرچ بنا ڈالے

مجھے ایک یورپ میں موجود دوست نے بتایا کہ
میں ایک گلی سے گزرتا تھا تو وہاں سے خوشبو آتی تھی
اور ٹھنڈک محسوس ہوتی تھی
معلوم نہیں کیوں ؟
پھر مجھے کسی نے بتایا کہ یہ جو چرچ ہے نا
یہ کبھی مسجد ہوا کرتا تھا
لیکن ھم بے بس ہیں کیا کر سکتے ہیں

قرطبہ” غرناطہ” اشبیلہ” کے لوگ آج بھی صدیوں سے ظاہری عیسائی مگر اندر سے مسلمان ہیں

اگرچہ ان پر نماز روزے پردے اور قرآن رکھنے پڑھنے کی پابندی تھی مگر انہوں نے اپنے اندر سے ایمان کی شمع بجھنے نہیں دی
اندر سے ایماں کی حرارت کو سرد نہیں ہونے دیا

جیسے ترکیوں نے اتاترک کی پابندیاں لگانے کے بعد شراب خانوں میں جوا خانوں میں نمازیں پڑھیں قرآں سیکھا مگر چھوڑا نہیں اسلام سے ناطہ توڑا نہیں

اور میں سوچتا ہوں اگر پاکستانی قوم پر ایسی پابندیاں لگائی جاتیں تو کیا یہ اپنا ایمان بچا سکتی تھی ؟
مجھے ہمیشہ جواب نفی میں ملا ہے
اس کی دو وجہیں ہیں
پہلی وجہ
اس قوم کا کوئی ماضی نہیں ہے
ستر سال سے دھوکہ , فریب , کرپشن اور اپنے محسنوں کو قید کرنا ان پر جبر کرنا شیوہ رہا ہے اور اس قوم کا کوئی اسلامی ہیرو نہیں ہے
دوسری وجہ
یہ شہدی ترسی ہوئی قوم ہے
جب جہاں پیسہ دیکھا اسی رنگ میں رنگے گئے
اپنی غیرت و خوداری بیچ دی تبھی امریکہ کے ایک آفسیر کا مشہور جملہ ہے پاکستانی پیسے کے لیئے اپنی ماں کو بھی بیچ دیتے ہیں
پاکستانی تاریخ پر نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ انہوں نے کتنے مسلمانوں کو کتنے پیسوں میں بیچا ہے
ایمل کانسی, عافیہ صدیقی, اور افغان امریکہ جنگ کے دوران کتنے افغانیوں کو بیچا ہے

یہ یہاں سے کما کر یورپ و امریکہ میں انویسٹ کرتے اور وہاں گھر بناتے ہیں گویا پاکستان ان کے لیئے کارخانہ ہے کہ جب تک پیسہ مل رہا ہے تو رہنا ہے جب ملازمت ختم تو فرار ہو جاتے ہیں
یہ پیسے کے مرید ہیں
اسی وجہ سے کسی نے عرب ممالک میں بزنس نہیں کیا بلکہ گھوم پھر کر انہی فرنگیوں کے کتے نہلانے جاتے ہیں جن کے کتے ان کے آباء و اجداد نہلاتے تھے

ایک چٹکلہ ہے کہ ایک فرنگی پاکستانی کو کہنے لگا اگر تم نے یہاں آ کر ہماری خدمت کرنی تھی تو پاکستان آزاد کیوں کروایا ؟

الغرض پیسے کی حرص میں غرق قوم کا نہ ماضی ہے نہ حال ہے مستقبل الله بہتر کرے
ہمیں اس کی رحمت سے امید تو ہے

لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے
⁦سیدمہتاب_عالم# ✍️⁩

Scroll to Top