حج کا منفرد منظر

تاریخِ_اسلامی 28

یہ تصویر 1929 کی ھے
حجاج مراکش سے الجزائر، پھر تیونس، پھر لیبیا اور پھر مصری عازمین حج آتے ہیں اور مکہ المکرمہ تک اکٹھے چلتے ہیں

فرانسیسی فوٹوگرافر کی طرف سے حجاز کے گاؤں الجحفہ کے قریب اور سرحدوں کے فعال ہونے سے پہلے خانہ خدا کے زائرین کے لیئے ہوا سے لی گئی تصویر

پاسپورٹ نہیں
ٹرانزٹ ویزہ نہیں
شناختی کارڈ بھی نہیں
حج ان لوگوں کے لیے تھا قرآن و حدیث کے مطابق جو لوگ وہاں تک جانے کی استطاعت رکھتے تھے تھے خواہ غریب ہو یا امیر
پاسپورٹ نہیں، سرحدیں نہیں، کوئی جھگڑا نہیں، کوئی فتنہ نہیں
اونٹوں کی قطاروں میں گھوڑوں گدھوں پر پیدل جس سے جو بن پڑتا رب العالمین کے گھر کی طرف دوڑ پڑتا

مگر آل نجد نے مسلمانوں سے کعبہ کا دیدار اور روضہ پاک پہ دیوانہ وار جانا چھین لیا ھے

مسلمان ملکوں پر کمی خاندان مسلط کر دییئے گئے ہیں جنہوں نے حج و عمرہ جیسے مقدس فرائض کو تجارت بنا لیا ہے
ہر ملک نے اپنی سرحد , اپنا نظام بنا لیا تاکہ کوئی غریب ہمت کرے بھی تو ملکی نظام کے مطابق نہ چل سکے
یہ حکمران شیطان ہیں جو حج و عمرہ سے روکتے ہیں
ومن اظلم ممن منع مساجد الله
اس سے بڑا ظالم کون جو الله کی مساجد سے روکے
مسلمانوں پر سختی عوام کی طرف سے نہیں آئی بلکہ حکمرانوں کی طرف سے آئی ہے
اللہ رب العزت بار بار حج بیت اللہ کی با ادب حاضری نصیب فرمائے
مدینے کی طرف کب روانہ قافلہ ہوگا
مجھے اذن مدینہ کب میرے مولا عطاء ہوگا


سیدمہتاب_عالم# ✍️

Scroll to Top