عشقِ_سیدِ_عالم 29
ابو اسحاق الشیرازی شافعی فرماتے ہیں
أتمنى لو كنت في زمن النبي ﷺ ولم يكن لي سمع ولا بصر رجاء أن يلمحني بنظرة
کاش میں رسول کریم صلی اللہ تعالی علیہ و بارک و سلم کے پاک زمانہ میں ہوتا اگرچہ میں اندھا ہوتا اگرچہ میں بہرہ ہوتا
بس ایک بار اُن صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی نگاہِ رحمت مجھ پہ پڑ جاتی
{الدرر الکامنہ}
اِن آنکھوں کا ورنہ کوئی مصرف ہی نہیں ہے
سرکار تمہارا رخِ زیبا نظر آئے
یقین کیجئے نگاہِ رحمت کا ایک بار پڑ جانا
دنیا و آخرت کو سنوار دیتا ھے
قِسْمَت میں لاکھ پیچ ہوں سَو بَل ہزار کَجْ
یہ ساری گُتھی اِک تری سیدھی نَظَرْ کی ہے
وہ ہمیں دیکھیں ہم انہیں نہ دیکھیں یہ بھی بڑی سعادت کی بات ہے
ہم انہیں دیکھیں اور وہ سوہنا اپنے کاموں میں مصروف ہو یہ بھی سعادت کی بات ہے
اُس جناب کی زیارت کی خاطر تو صدیوں خشک ریگستانوں, دشوار وار گزار پہاڑوں , جنگلوں کوہساروں کا سفر بھی ہنس کے سہہ لیں
آنکھیں دنیا کی اعلیٰ سے اعلیٰ نعمتیں دیکھ لیں مگر محبوب صلی الله علیہ وسلم کو نہ دیکھیں تو کس کام کی آنکھیں ؟
انہیں نہ دیکھا تو کس کام کی ہیں یہ آنکھیں
کہ دیکھنے کی ہے ساری بہار آنکھوں میں
ہم قبر میں صدیوں انتظار کریں گے کہ کب آنکھ کھلے اور کب اُن کا رخِ انور دیکھیں اور اپنی صدیوں کی تھکان اتار سکیں
کاش کہ وہ کرم فرما جائیں
کاش کہ وہ دھڑکتے دل پر تسلی کا ہاتھ رکھ جائیں
کاش وہ سینے سے لگا جائیں
کاش وہ آجائیں اور مسکرا جائیں
بس پھر ہر زخم پھول بن جائے , ہر مصیبت راحت ہو جائے , ہر غم ہوا ہو جائے
کاش وہ ایک بار مسکرا کے دیکھیں
اگر وہ نام لے لیں تو ہم خوشی سے مر جائیں
بس ایک بار وہ رخِ انور سے نورانی سیاہ چادر ہٹا کر دکھا دیں
اے کااااااااااش
سیدمہتاب_عالم# ✍️
