ہر نعمت کا سبب ہمارا نبی

عشقِ_سیدِ_عالم 46

امامِ اجل مجتہدِ مطلق محمد بن ادریس الشافعی اپنی کتاب الرسالہ میں فرماتے ہیں
فلم تُمسِ بنا نعمةٌ ظهرت ولا بطنت نلنا بها حظا في دين ودنيا أو دفع بها عنا مكروه فيهما وفي واحد منهما إلا ومحمد ﷺ سببها
ہمیں ہر ظاہری و باطنی, دینی و دنیاوی نعمت جو ملتی ہے یا دین و دنیا میں ہم سے جو بھی مصیبت دور ہوتی ہے وہ صرف و صرف جناب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے سبب ہوتی ہے
امام شافعی کے اس فرمان کا بعینہ ترجمہ امام اھل سنت احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی نعت کے شعر میں کیا
لا ورب العرش جس کو جو ملا ان سے ملا
بٹتی ہے کونین میں نعمت رسول اللہ کی
سلفاً خلفاً مسلمان حضور جانِ عالَم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو اللہ رب العزت کی نعمتوں کا سبب و وسیلہ سمجھتے تھے سمجھتے ہیں اور سمجھتے رہیں گے
بلکہ امامِ اھل سنت تو حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں عرض کرتے ہیں

تو نے ایمان دیا تو نے جماعت میں لیا
تو کریم اب کوئی پھرتا ہے عطیہ تیرا

اے میرے پیارے آقا آپ نے ہی تو ہمیں ایمان عطاء کیا ہے اور سخی کی شان نہیں کہ وہ کوئی شے دیکر واپس لے لے

سیدی عبد العزیز الدباغ مصری فرماتے ہیں
حضور جانِ ایمان صلی اللہ علیہ وسلم کے قلبِ انور سے نور کی ایک تجلی نکلتی ہے جو ہر مومن کے دل میں سماتی ہے
اگر وہ یہ تجلی سلب کر لیں تو بندہ ایمان سے محروم ہو جاتا ہے
حضور فرماتے ہیں
وإنَّما أنا قاسِمٌ ويُعْطِي اللَّهُ
میں تو تقسیم کرنے والا ہوں اور اللہ عطاء فرمانے والا ہے
{ بخاری شریف }
یعنی جس کو اللہ کی عطاء ملے گی مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی تقسیم سے ملے گی حضور کے سبب سے ملے گی,
کیونکہ بے وسیلہ و واسطہَ مصطفی خدا بھی نہیں ملتا جو اُن کے وسیلے کے بغیر خدا تک پہنچنے یا پہچانے کا دعوی کرے وہ شیطان ہے اور جہنم میں پہنچ جاتا ہے

حسان الہند فرماتے ہیں

ذِکر خدا جو اُن سے جدا چاہو نجدیو
وَاللہ ذِکرِ حق نہیں کنجی سَقَر کی ہے
بے اُن کے واسطہ کے خدا کچھ عطا کرے
حاشا غلط غلط یہ ہوس بے بصر کی ہے
اللہ رب العزت حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے ہمارے ایمان کی حفاظت فرمائے اور ہمیں ایمان پر موت دے

سیدمہتاب_عالم# ✍️

Scroll to Top