کامیاب_خواتین 52
ابو جعفر نے اپنی بیٹی کا نکاح شيبة بن نصاح سے کر دیا تو لوگوں نے کہا
آپ نے ایک تنگدست انسان سے اپنی بیٹی کا نکاح کر دیا ہے حالانکہ مالداروں کے پیغامِ نکاح بھی آئے تھے
فرمایا
إِن كَانَ شيبَة مقلا فسيملأ بَيتهَا قُرْآنًا
اگر شیبہ تنگدست ہے تو میری بیٹی کے گھر کو قرآن سے بھر دے گا
جب ان کا نکاح ہوا تو لوگ کہتے تھے
يُولد بَينهمَا مصحف
اِن دونوں سے مصحف پیدا ہوگا
❗ السبعة في القراءات لابن مجاهد ص ٥٩ ❗
مراد تھا کہ ان کے گھر علم ہی علم ہوگا کیونکہ میاں بیوی دونوں علم و فضل والے ہیں
پہلے زمانے یا یوں کہ لیں عروجِ اسلام اور آج کے دور میں فرق یہی ہے کہ اُس وقت بیوی وہی تلاش کی جاتی تھی جو دین میں معاون ہو اور آج وہ تلاش کی جاتی ہے جو کمائی میں معاون ہو
آج کی بیوی کا زور بھی یہی ہوتا ہے کہ شوہر کا ہاتھ کمائی میں مضبوط کروں
دین میں ساتھ چلنے کا ذہن کم ہی ہے
لوگ احمق سے احمق تر ہوتے جا رہے ہیں کہ گھر کا سکون اور معاشرے میں عزت مال و دولت میں تلاش کرتے ہیں جبکہ یہی مال اصل میں بے سکونی و ذلت کا سبب ہے
گھروں میں کروڑوں روپے آتے ہوں مگر رحمت کا ایک فرشتہ نہ آتا ہو تو سکون ہوگا ؟
دنیا داروں کی نظروں میں آپ معزز ہوں مگر رحمت والے فرشتوں کی نظروں میں مبغوض ہوں تو یہ عزت ہے کہ ذلت ہے ؟
گھروں کو قرآن سے بھریں دین و ایمان سے بھریں دنیا و شیطان سے نہ بھریں
اور گھر کو دین و ایمان سے بھرنے کی طرف پہلا قدم علم والی خاتون اختیار کرنا ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
