طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 140
امام اعظم ابو حنیفہ فرماتے تھے
أين الملوك من لذة ما نحن فيه لو فطنوا لقاتلونا عليه
جس لذت میں ہم رہتے ہیں وہ بادشاہوں کو کہاں نصیب اگر بادشاہوں کو اس کی سمجھ ہوتی تو اس لذت کے لیئے ہم سے قتال کرتے
❗ محاضرات الادباء للاصفھانی ❗
دنیا کی کوئی لذت علم کی لذت کا مقابلہ نہیں کر سکتی بشرطیکہ صحیح معنوں میں اس کی لذت چکھی جائے
امام فخر الدین رازی کے اُس وقت پر افسوس کرتے تھے جو کھانا کھانے میں گزرتا تھا
امام محمد جب کسی مسئلے کو حل کر لیتے تھے تو فرماتے جو لذت ہمیں نصیب وہ شہزادوں کو کہاں نصیب ؟
عبیداللہ السجزی فرماتے ہیں
میں ابو نصر السجزی کے پاس بیٹھا تھا تو ایک خاتون آئی اور اس نے ایک تھیلی نکال کر سامنے رکھی جس میں ایک ہزار سونے کے سکے تھے اور کہنے لگی ان کو آپ جیسے مرضی استعمال کریں
شیخ نے فرمایا
مقصد کیا ہے ؟
کہنے لگی میں آپ سے شادی کرنا چاہتی ہوں
مجھے نکاح میں رغبت نہیں ہے بس آپ کی خدمت کرنا چاہتی ہوں
شیخ نے فرمایا یہ سونے کے سکے اٹھاؤ اور جاؤ
جب وہ چلی گئی تو شیخ نے فرمایا
خرجت من سجستان بنية طلب العلم ومتى تزوجت سقط عني هذا الاسم
میں سجستان { اپنے شہر } سے طلبِ علم کی نیت سے نکلا تھا تو جب میں شادی کر لوں گا تو مجھ سے طالبِ علمِ دین کا نام ہٹ جائے گا
❗ رسالة السجزي إلى أهل زبيد في الرد على من أنكر الحرف والصوت صفحة ٦٤ ❗
حقیقی طالبِ علم کی یہی شان ہے کہ خود سے طالبِ علم کا لقب ہٹانا گوارا نہیں کرتے
عموماً طالبِ علم کو اتنی مالدار خاتون شادی کی دعوت دے تو باؤلے ہو جاتے ہیں
شادی کا ایک وقت ہے اور وہ تکمیلِ تعلیم کے بعد کا ہے
ایک وقت آئے گا شادی بھی ہو جائے گی
اے رضا ہر کام کا اک وقت ہے
دل کو بھی آرام ہو ہی جائے گا
سیدی عمر فاروق اعظم کا فرمان ہے
تفقهوا قبل أن تسودوا
سردار بنائے جانے سے پہلے فقہ حاصل کرو
اس کا ایک معنیٰ ہے کہ شادی کرنے سے پہلے علم حاصل کرو
ایک معنی ہے کسی بھی ذمہ داری لینے سے پہلے علم حاصل کرو
کوئی بھی ذمہ داری ہو خواہ شادی کی ہو جب بندے پر پڑتی ہے تو حصولِ علم میں ایک بار کافی کمی آتی ہے
بہر حال لذتِ علم جسے محسوس ہونا شروع ہو جائے وہ شادی و منصب و شہرت کی لذتوں سے بے پرواہ ہو جاتا ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
