ذاتی_مطالعہ 100
النوادر و النتف میں امام سفیان ثوری کا فرمان منقول ہے
لولا هذه الدنانير لتمندل بنا هؤلاء الملوك
اگر یہ دینار نہ ہوتے تو یہ بادشاہ ہمیں ہاتھ کا رومال بنا لیتے
یعنی ہم اھلِ علم کو یوں استعمال کرتے جیسے رومال کو استعمال کر کے پھینک دیا جاتا ہے
لہذا علماء کو مالدار ہونا چاہئے تاکہ حکام و امراء علم والوں کو مال کا لالچ نہ دے سکیں
مگر زمانہ طالبِ علمی میں ایک طالب علم کو فقیر ہونا چاہئے مال کی ہلکی سی خواہش علمِ دین سے دوری کا سبب بن جاتی ہے
اس دورِ پر فتن میں دو طرح کے مذہبی لوگ کامیاب ہیں خواہ اصل میں عالم نہ ہوں
ایک مشہور دوسرا کسی تنظیم سے وابستہ ہو
غیر مشہور عالم بیچارہ کتب لکھے گا تو چھاپے کون ؟
جامعہ بنائے گا تو تعاون کون کرے گا ؟
کیونکہ کتب چھاپنے اور جامعہ کی تعمیر کے لئے مشہور ہو یا کسی تنظیم سے وابستہ ہو
بہت سے علم والے اسی فکرِ معاش میں گھل گھل کے ضائع ہو گئے
اگر آپ مالدار ہیں تو مشہور علماء کی خدمت اور تنظیم سے مربوط کی خدمت کی بجائے غیرِ مشہور کو ترجیح دیں
ورنہ غربت تو یہ ہے کہ مشہور یورپ کے ٹوور کر آتا ہے اور غیر مشہور عمرہ پر نہیں جا پاتا
✍️ #سیدمہتاب_عالم
