مصطلحاتِ_علومِ_دینیہ 12
نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی کتنی کنیتیں تھیں
ایک سرخ رنگ کے صاحب حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو فرمایا
أنت أبو الورد
آپ تو گلاب والے ہیں
❗الاصابہ فی تمییز الصحابہ جلد 4 صفحہ 2401 ❗
مخاطَب کو ایسے نام سے پکارنا سنت ہے جو اسے پسند ہو
اھلِ عرب کسی کو عزت دینا چاہتے تو اسے کنیت سے بلاتے تھے
جامع صغیر میں حدیث مبارکہ ہے
بادروا أولادكم بالكنى أن تغلبهم الألقاب
اپنی اولاد کی کنیت رکھنے میں جلدی کرو قبل اس کے کہ ان کے القاب ان پر غالب آجائیں
❗جامع صغیر جلد 3 صفحہ 233 ❗
اھل عرب کنیت بڑے بیٹے یا جو بیٹا زیادہ پیارا ہوتا اس کے نام پر کنیت رکھتے تھے
مثلاً مولا علی کی کنیت ابو الحسن ہے
اگر بیٹا نہ ہوتا تو بیٹی کے نام پر کنیت رکھتے تھے
اور اگر بیٹا بیٹی نہ ہوتے تو قریبی رشتہ دار لڑکے کے نام پر کنیت رکھتے تھے جیسے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی الله عنھا کی کنیت ام عبد اللہ تھی عبد اللہ بن زبیر ان کے بھانجے تھے
اگر کسی کی اولاد نہ ہوتی اور قریبی بھی نہ ہوتا تو ماں باپ کے نام سے کنیت ہوتی تھی مثلا ابن فلاں و بنت فلاں
اھل عرب نے بن فلاں و بنت فلاں کو بھی کنیت میں شمار کیا ہے
اس کی وجہ یہ ہے کہ کنیت پہچان اور تعظیم کے لیے ہوتی ہے تو جس بھی نسبت سے تعظیم و تکریم حاصل ہو جائے وہ نسبت مشہور کر دی جاتی تھی
امام ابن الاثیر نے المرصع میں کنیت کے آغاز کا سبب بیان کیا کہ
ایک بادشاہ کا بیٹا ہوا تو اس نے سوچا اس کو ہر علم و فن میں ماہر کیا جائے اسی وجہ سے شہر سے الگ تھلگ ایک محل بنوا کر بہترین اساتذہ و مؤدبین کی جماعت شہزادے کی تربیت پر مقرر کی اور پھر شہزادے کی دل جوئی کی خاطر ان کے چچا زاد اور دوسرے بچے بھی اس کے ساتھ رکھے
ہر سال بادشاہ شہزادے کو دیکھنے جاتا تھا اور ساتھ ان بچوں کے باپ بھی جاتے جو شہزادے کے ساتھ رہتے تھے
شہزادہ جب پوچھتا یہ کون ہے تو بادشاہ کہتا ابو فلاں وہ کون ہے تو کہا جاتا ابو فلاں
یوں کنیت کا آغاز ہوا
ایک قول یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ جنگوں میں لڑتے اور شہرت پاتے تھے مگر اپنے باپ کا نام چھپاتے تھے کیونکہ ہر قبیلے میں ان کی رشتہ داریاں ہوتی تھیں تاکہ لڑائی میں باپ کا نام نہ آئے تو ابو فلاں کے نام سے شہرت پاتے تھے
اھلِ عرب کو کنیت کا بہت شوق تھا انسان تو انسان حیوانوں کی کنیت حتی کہ جمادات کی کنیت رکھتے تھے
مثلا شیر کی کنیت ابو الحارث ہے
اور روٹی کی کنیت ابو جابر ہے صبح کی کنیت ابن ذکاء اور کنکری کی کنیت بنت الارض ہے
اھل عرب بچپن سے بھی کنیت رکھ دیا کرتے تھے تاکہ نیک فالی لیں کہ اس کا بیٹا ہوگا
کنیت رکھنا سنت ہے
جناب محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک سے زائد کنیات ہیں
ابو القاسم
کیونکہ حضرت قاسم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بڑے بیٹے تھے
ایک وجہ یہ بھی بیان کی گئی کہ کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن جنت تقسیم کریں گے اس لیئے حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیت ابو القاسم
ہے
حدیث پاک میں انما انا قاسم و اللہ یعطی
میں تو تقسیم کرنے والا ہوں اللہ مجھے دینے والا ہے
❗شرف المصطفیٰ جلد 2 صفحہ 70 ❗
ابو ابراھیم
جبریل امین علیہ السلام نے یہ کنیت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیئے رکھی
عرض کیا السلام علیک یا ابا ابراھیم
ابو الارامل
کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیواؤں کی خبر گیری کرتے ان کی امداد کرتے اسی وجہ توریت شریف میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ابو الارامل کنیت ہے
❗شرف المصطفیٰ ❗
ابو المؤمنین
قرآن کریم میں
النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنفُسِهِمْ
نبی مؤمنوں کی جانوں سے زیادہ ان کے حقدار ہیں
اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں کنیت رکھیں اور مسلمان بھائی کو کنیت سے مخاطب کریں
باہم محبت بڑھے گی اور سنت کا ثواب ملے گا
✍️ #سیدمہتاب_عالم
