مصطلحاتِ_علومِ_دینیہ 13
°°° جاسوس اور حاسوس میں فرق °°°
حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے
ولا تَحَسَّسُوا ولا تَجَسَّسُوا
نہ عیوب کی ٹوہ میں پڑو نہ چھپے معاملات تلاش کرو
الحس کا معنی ہلکی آواز اور پہچاننا ہے
قاموس میں ہے
الجس باطنی امور کی ٹوہ میں پڑنا
جس کا لغوی معنی مَس کرنا چھونا ہے کیونکہ بندہ کسی کے عیوب و عورات کو چھونے کی کوشش کرتا ہے اسی لیئے اسے جاسوس کہتے ہیں
اولیاء کرام کو بھی جواسیس القلوب یعنی دلوں کے جاسوس کہا جاتا ہے
احمد بن عاصم الانطاکی فرماتے ہیں
إذا جالستم أهل الصِّدق فجالسوهم بالصِّدق فإنَّهم جواسيس القلوب يدخلون في قلوبكم ويخرجون منها من حيث لا تُحسُّون
جب تم اھلِ صدق کی مجلس میں بیٹھو تو سچے دل سے بیٹھو کیونکہ وہ دلوں کے جاسوس ہوتے ہیں تمہیں پتا بھی نہیں چلتا وہ تمہارے دلوں میں داخل ہو کر نکل آتے ہیں اور تمہیں اس کا احساس تک نہیں ہوتا
(مختصر تاریخ دمشق لابن منظور)
یعنی تمہارے دلوں میں گھس کر اندر کے خیالات و توھمات کو جان لیتے ہیں مگر تمہیں اس کا احساس نہیں ہونے دیتے
تمہارے گناہوں و جرائم کے ارادے جان کر پھر بھی شفقت و رحمت سے پیش آتے ہیں
ان کے بارے کو منفی باتیں تمہارے دلوں میں آ رہی ہوتی ہیں وہ سب جان رہے ہوتے ہیں مگر پھر بھی مہربانی سے پیش آتے ہیں
الغرض الحس اور الجس میں فرق کچھ یوں ہوا کہ الحس مطلقاً پوشیدہ خبروں کی تلاش کرنا ہے جبکہ الجس عیوب کی ٹوہ کرنا ہے
ولہذا تاج العروس میں ہے کہ جاسوس اسے کہتے ہیں جو شر کی خبروں پر نظر رکھے جبکہ حاسوس اسے کہتے ہیں جو خیر کی خبر تلاش کرے
حدیث پاک میں اسی لیئے حاسوس و جاسوس بننے سے منع کیا گیا کہ لوگوں کے عیوب و خیر پر نظر نہ رکھو کہ عیوب پر نظر رکھنے سے مسلمان کی عزت ہلکی سمجھی جائے گی اور خیر پر نظر رکھنے سے اپنی خیر میں مستغرق ہونے سے رکاوٹ بنے گی یعنی جب کہ خیر پر نظر صرف برائے نظر ہو برائے تقلید نہ ہو
اخیار و ابرار کے کاموں پر نظر رکھیں تاکہ ان کی نقشِ قدم پر چل سکیں
اشرار کے کاموں پہ نظر رکھنے کی حاجت نہیں ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
