کتنے آئمہ پر رافضیت کا فتویٰ لگایا گیا

آلِ_رسول_محبوبِ_رسول 25

ائمہ مجتہدین و فقہاء و محدثین میں کسی ایک پر ناصبیت کا الزام و اتہام نہیں رکھا گیا کیونکہ ناصبیت انتہائی بری گالی اور غلیظ عقیدہ ہے
{ناصبی وہ جو اہلِ بیت کی شان گھٹائے وہ جو فضائل و مناقبِِ حیدرِ کرار و حسنین کریمیں گھٹائے یا انہیں عام بتائے یا ان میں تاویل کر کے دیگر صحابہ کرام کو بھی ان کے فضائلِ خاصہ کا حصہ دار بتائے}
جبکہ مجتہدین و محدثین پر رافضیت کا الزام ہمیشہ رکھا جاتا رہا ھے

یہ امام اعظم ہیں

جو امام زید بن علی (جو کہ تفضیلِ علی کے قائل ہیں امام اھلِ سنت ابو الحسن اشعری نے مقالات الاسلامیین میں یہی لکھا ہے جسے تفصیل درکار ہو وہ کتاب پڑھے) انکی بنو امیہ کے خلاف مالی امداد فرماتے

اور کہا کرتے کہ زید بن علی کا بنو امیہ کے خلاف نکلنا ویسا ہی ھے جیسے صحابہ کرام کا کفار مکہ کے خلاف جنگ بدر کے لئیے نکلنا ہوا تھا

امام اعظم سے کہا گیا آپ کیوں نہیں ساتھ مل کر لڑتے فرمایا میرا عذر ھے

اگر اس وقت کے خلیفہ اور عوام کو علم ہو جاتا تو امام اعظم بھی رافضیت کے فتوے میں آجاتے

یہ امام شافعی ہیں

جو کثرت سے ذکر اھل بیت کرتے تو لوگ آپ کو رافضی کہتے حتی کہ آپ کو کہنا پڑا

ان کان رفضا حب آل محمد
فلیشھد الثقلان انی رافضی

اگر آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت رافضیت ھے تو اے تمام جنات و انسانو جان لو میں رافضی ہوں

امام شافعی آل رسول کی محبت میں اتنا آگے بڑھے کہ یہ شعر حج کے موقع پر منی و مزدلفہ کی گھاٹیوں میں اونچی آواز سے پڑھنے لگے جہاں لبیک کی صدائیں لگائی جاتی ہیں
پھر مزید فرمایا

يـكـفـيـكُـمُ مِـنْ عَـظـيـمِ الـفـخـرِ أنـكــمُ

مَـنْ لـم يُصــلِّ عـلـيـكـم لا صَــلاةُ لَــهُ

اے اھل بیت تمہاری عظمت کو اتنا ہی کافی ھے کہ جو تم لوگوں پر درود نہ پڑھے اسکی نماز ہوتی ہی نہیں ھے

تبھی لوگوں نے امامِ مجتہد کو بھی نہ بخشا رافضی کہنے سے مگر ناصبیت کا داغ آپ نے بھی نہ لگنے دیا

پھر امام نسائی کو دیکھیں

آپ کو جلا وطن کر دیا آپ کو شہید کر دیا
کیونکہ آپ نے خصائصِ علی نام سے مولا علی کی شان میں ایک کتاب لکھی لوگوں نے رافضی کا فتویٰ لگا کر شہر سے نکال دیا پھر شہید کر دیا گیا

مگر انہوں نے بھی ناصبیت سے خود کو پاک رکھا

پھر یہ ہیں امام حاکم

جن کو مستدرک لکھنے کی وجہ تشیع میں مبتلاء کہا گیا

آپ کے زمانے میں ناصبیت کا عروج تھا اسی وجہ سے آپ نے مناقب سیدہ فاطمہ نام سے ایک کتاب لکھی اسکی وجہ سے آپ کو مزید رافضی کہا جانے لگا

یہ ہیں وجوداً متاخرین میں سے مگر علماء اور اعتقادا متقدمین کی پہلی صف میں سے امام احمد رضا خان بریلوی

خارجی امام اھل سنت کو بھی ایک عرصہ تک آپکے نام اور باپ دادا کے نام کی وجہ سے شیعہ کہتے تھے کہ ان کے خاندانی نام اہلِ بیت کے ناموں پر کثرت سے رکھے گئے ہیں مثلاً احمد رضا , نقی علی, حسن رضا , وغیرہ

ایسے بے شمار علماء و محدثین ہیں جن پر اھل بیت کی محبت میں رافضیت کا الزام تو لگا مگر کسی پر ناصبیت کا الزام نہیں لگا

حالانکہ ان حضرات نے دفاع صحابہ کا صحیح معنوں میں حق بھی ادا کیا اس کے باوجود ناصبیت سے پاک رہے
رافضیت کے فتوے سہے

جبکہ آج کل دفاع صحابہ کرنے والے حضرات یوں کرتے ہیں کہ اھل بیت کی شان میں تنقیص مقدم بلکہ اھم حصہ شمار کرتے ہیں

میں بے شمار مثالیں لکھ سکتا ہوں بلکہ اس پر ایک ضخیم کتاب لکھ سکتا ہوں کہ کونسی چھوٹی چھوٹی باتوں پر علماء کو رافضی کہا گیا کسی کو مائل بہ تشیع کہا گیا کسی کو ڈر تھا کہ میں فلاں صحیح حدیث شریف بیان کروں گا تو لوگ مجھے رافضی قرار دے دیں گے
مگر اسی پر بس ہے کہ
دفاع صحابہ کرتے ہوئے رافضیت کے فتوے سہنا سنت اسلاف ھے

جبکہ ناصبیت کا غلیظ لیبل صرف ابن تیمیہ جیسے گمراہ شخص کے حصے میں آیا ھے

یقین کیجئے یہ لوگ اگر امام عارف باللہ عبد الوھاب شعرانی کو پڑھ لیں تو ان کو بھی رافضیت کے فتوے میں لپیٹ دیں گے

امام عبد الروف مناوی کی کتاب فضائل فاطمہ پڑھ لیں تو اس میں بھی رافضیت کی بو پا لیں گے

ہاں مگر ان اسلاف کو رافضیت کے فتوے سہنا منظور تھا مگر ناصبیت سے کوسوں دور بھاگتے تھے

اللہ کرے تیرے دل میں اتر جائے مری بات
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top