چہرے کے پانی کی حفاظت کریں

اسلامی_طرزِتربیت 216

ایک بڑے مزے کی حدیثِ مبارکہ ہے

إن لله أقواماً اختصهم بالنعم لمنافع العباد
الله وحده لا شريك کے کچھ بندے ایسے جن کو اس نے بندوں کے نفع کی نعمت کے لیئے خاص فرمایا ہوا ہے
❗ طبرانی شریف ❗
یعنی ان پر نعمت ہی یہی ہے کہ وہ بندوں کے لیئے نفع مند ہوتے ہیں
بندوں کے لیئے فائدے مند ہوتے ہیں
سراپائے نفع ہوتے ہیں
دوسری روایت میں ہے
إن لله عبادا اختصهم بقضاء حوائج الناس
الله رب العزت کے کچھ بندے ایسے بھی ہیں جن کو لوگوں کی حاجتیں پورا کرنے کے لیئے خاص فرمایا ہوا ہے
❗ طبرانی شریف ❗
کیسے خوش نصیب ہیں وہ بندے جو لوگوں کی حاجتیں پوری کرتی ہیں لہذا یہ نہ کہا کریں کہ فلاں کو میں تو ضرورت کے وقت یاد آتا ہوں کتنی اچھی آپ کی شخصیت ہے کہ حاجت کے وقت آپ کو یاد کیا جاتا ہو
❗حکایت ❗
امام حسن مجتبیٰ رضى الله عنه کا ایک پڑوسی مفلس ہو گیا تو اس کی زوجہ نے کہا آپ امام حسن کے پاس جائیں وہ آلِ رسول ہیں کریم شخص ہیں
وہ کہنے لگا مجھے شرم آتی ہے کہنے لگی آپ جائیں ورنہ میں جاؤں گی
اس نے کہا مین شعر لکھتا ہوں
تو اس نے یہ شعر لکھا کر امام حسن کو بھیجے
لم يبقَ عندي ما يُباع ويُشترى
يكفيكَ رؤيةَ مظهري عن مخبري
میرے پاس کوئی شے باقی نہیں بچی جو خریدی بیچی جائے میری خبر دینے والے کی طرف سے آپ کو میری حالتِ زار کافی ہے

إلّا بقية ماءِ وجهٍ صنتهُ عن
أن يباع وقد وجدتكَ مُشتري
ہاں مگر میرے پاس میرے چہرے کا پانی ہے جسے میں نے بیچنے سے بچا رکھا تھا اور اب میں آپ کو اس کا خریدار پاتا ہوں
امام حسن مجتبیٰ یہ شعر سن کر رو پڑے
اور اسے خط لکھا
عاجلتنا فأتاكَ عاجل برّنا
طلّاً ولو أمهلتنا لم نقصرِ
تم نے ہمیں جلد یاد کیا بس ہماری قلیل نیکی تمہارے پاس آنے والی ہے اور اگر تم ہمیں چھوڑتے تو بھی ہم کمی نہ کرتے

فخذ القليل وكنْ كأنكَ لم
تبع ما صنتهُ و كأنّنا لم نشترِ
یہ تھوڑا سا مال لو گویا کہ نہ تم نے اپنے چہرے کا پانی بیچا نہ ہم نے خریدا
یہ فرما کے امام مجتبیٰ نے اپنے گھر کا سارا سامان اسے دے دیا
❗ حکایتِ ثانیہ ❗
ایک محدث دینی و دنیاوی علوم کے ماہر تھے
مالدار تھے اور جہاں دیدہ شخص تھے
ایک بار درسِ حدیث دے رہے تھے تو ایک شخص آیا جس کے ہاتھ میں مٹی کا برتن تھا جس میں پانی تھا
وہ کھڑا ہو کے ادھر ادھر دیکھنے لگا
شیخ آگے بڑھے اور پوچھا کیا چاہے کہنے لگا میں نے آپ کے بارے سنا آپ علم و فضل والے ہیں میرے پاس یہ مٹی کا برتن ہے اور اس میں پانی ہے جو بڑا قیمتی ہے
یہ آپ کے سوا کوئی نہیں خرید سکتا تو میں آپ کو یہ بیچنے آیا ہوں
شیخ نے فرمایا دکھائیں
اس نے دکھایا شیخ نے ملاحظہ کیا اور فرمایا کیا قیمت ہے ؟
کہنے لگا
ایک ہزار دینار (سونے کے سکے) شیخ نے فرمایا اس کی یہ قیمت تو کم ہے میں تمہیں پانچ ہزار دینار دوں گا
وہ کہنے لگا
نہیں مجھے بس اتنی ہی قیمت چاہے
شیخ نے اسے ایک ہزار دینار دیئے اور وہ برتن لیکر رکھ دیا
کچھ دیر بعد شیخ کے بیٹے نے اس برتن کو دیکھا تو کہنے لگا والدِ گرامی آپ کو لوٹ لیا گیا کیونکہ نہ یہ برتن قیمتی ہے نہ یہ پانی قیمتی ہے
فرمایا مجھے معلوم ہے
مگر میں نے دیکھا وہ بندہ محتاج ہے اور مانگنے کی ہمت بھی نہیں اس میں تو اس نے اسے بیچنا مناسب سمجھا اور میں نے خریدنا مناسب سمجھا کیونکہ ماء الوجه لا يباع چہرے کا پانی بیچا نہیں جاتا
یعنی عزتِ نفس کی قیمت نہیں ہوتی
اسے جتنے چاہے تھے وہ لیئے میرے کہنے کے باجود زیادہ نہیں لیئے
چہرے کے پانی سے مراد سوال کے وقت شرم و حیاء کی وجہ سے رنگ پھیکا پڑ جانا ہے
الغرض آپ دیکھا کریں آپ کو اللہ رب العزت نے مخلوق کی حاجت روائی کے لیئے چنا ہے تو دل کھول کر لوگوں کے چہروں کے پانی کی حفاظت کریں
آپ کے سامنے کوئی حاجت رکھ رہا ہے اور معزز شخص ہے تو شرمندہ نہ کریں
حاجت پوری ضرور کریں
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top