چمکتی تلوار اور زنگ آلود تلوار

تاریخِ_اسلامی 25

گُھونٹ بھریں اور گلا گَھونٹ دیں

چمکتی تلوار فاتح بیت المقدس سلطان صلاح الدین ایوبی کی ھے
جبکہ زنگ آلودہ تلوار پچھلے دنوں فلسطین کے قریب دریا سے ملی ماہرین کے مطابق یہ صلیبی جنگوں کے دوران کسی صلیبی کی تلوار ہے

آٹھ سو سال گزرنے کے بعد ایک تلوار چمک رہی ہے تو دوسری زنگ آلود ہے

چمکتی تلوار فتح کی نشانی کے طور پر میوزم میں سنبھال کر رکھی گئی
زنگ آلود تلوار بھاگتے ہوئے صلیبی سے سمندر میں گر گئی یا اس نے خود گرا دی

فاتح کی تلوار دیکھ کر اس کی قوم کے لوگ عقیدت سے جھک جاتے اور تلوار کو محبت بھری نگاہ سے دیکھتے ہیں
جبکہ زنگ آلود تلوار کو دیکھ کر اسکی قوم کے لوگوں کا زخم پھر تازہ ہوگیا ہے

مگر حیران اور شرمندہ کرنے والی بات تو یہ ہے کہ چمکتی تلوار کے وارث اس فاتح تلوار کے مالک دنیا بھر میں ذلیل و رسوا ہو رہے ہیں

جبکہ زنگ آلود تلوار کے وارث اس شکست خوردہ تلوار کے مالک دنیا بھر میں فاتح بنے ہوئے ہیں

کیوں؟؟؟

درسِ قرآں گر ھم نے بھلایا نہ ہوتا
یہ زمانہ نہ زمانے نے دکھایا ہوتا

اور بات حق تو یہ ہے

تربیت عام تو ہے، جوہرِ قابل ہی نہیں
جس سے تعمیر ہو آدم کی، یہ وہ گِل ہی نہیں
کوئی قابل ہو تو ہم شانِ کئی دیتے ہیں
ڈھُونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں

وہ مائیں نہ رہیں جو ایوبی پیدا کر سکیں
وہ ہاتھ ہی نہیں جو اس تلوار کا دستہ تھام کر عزت بحال کرے
مگر پھر بھی
سنا ہے یہ قدسیوں سے میں نے کہ وہ شیر پھر بیدار ہوگا

اپنے بچوں کو جہاد پڑھائیں, جہاد بتائیں , جہاد سکھائیں
کیونکہ جہاد ہماری عزت و آبرو ہے
جہاد ہماری بقاء ہے
جہاد ہمارا علو ہے
جہاد ہمارے لیئے آبِ حیات ہے کہ اگر اس کا گُھونٹ نہ بھرا تو کفار ہمارا گلا گَھونٹ دیں گے
لہذا اس آبِ حیات کا گُھونٹ بھر کے دشمنانِ اسلام کا گلا گَھونٹ دیں
سیدمہتاب_عالم# ✍️

Scroll to Top