پیٹ بھرنے سے عقل کمزور ہوتی ہے

طریقِ_علمِ_نجاتِ_دارین 84

عارف بالله امام عبد الوھاب الشعرانی فرماتے ہیں
ینبغی للعالم ان لا یشبع قط لا سیما ایام التالیف و ذلک لئلا یحجب عن کمال الفھم فی القرآن و الحدیث و الفقہ و غیر ذلک و ذلک لان فھم الشبعان یکون الضعیف
عالِم پر لازم ہے کبھی پیٹ نہ بھرے خاص طور پر جب کوئی تالیف کر رہا ہو تاکہ قران و حدیث اور فقہ وغیرہ سمجھنے سے اس کی سمجھ پر پردہ نہ پڑ جائے کیونکہ پیٹ بھرے شخص کی فکری قوت کمزور ہوتی ہے
❗تنبیہ المغترین للشعرانی صفحہ 75❗
عالم پیٹ بھرا ہو تو بے نور علم سے متصف ہوگا کبھی کبھار پیٹ بھرنا معیوب نہیں ہے مگر اکثر پیٹ بھر کر کھانا نہ عالم کی شان ہے نہ اس طرح علمِ نافع آتا ہے
ابو داؤد شریف کی حدیث شریف میں قربِ قیامت کے اس پیٹ بھرے شخص کا ذکر بطور مذمت ہوا جو حدیث شریف کو جھٹلاتا ہوگا
يُوشِكُ رجُلٌ شبعانٌ على أريكتِهِ يقولُ: عليكُم بِهذَا القُرآنِ
قریب ہے ایک پیٹ بھرا تمہیں تکیہ پر کروٹ بیٹھا کہے کہ صرف قرآن کو لازم پکڑو
یعنی حدیث کی کچھ اہمیّت نہیں ہے
جیساکہ امام شعرانی نے فرمایا جب پیٹ بھرتا ہے تو عقل کمزور ہوتی ہے
تو کمزور عقل شریعت مطہرہ کی حقیقی تشریح نہیں کر سکتا
آپ عالم ہیں تو بھوکا رہنا سونے سے زیادہ قیمتی ہے
آپ طالبِ علم ہیں تو بھوکا رہنا دنیا کی ہر شے سے قیمتی ہے
کیونکہ پیٹ بھرنے سے عقل میں فساد آتا ہے اور فسادی عقل سے امت کو گمراہ ہی کرے گا
آگے امام شعرانی نے فرمایا
جسے ہماری بات میں شک ہو وہ تجربہ کر کے دیکھ لے
چند دن بھوکا رہ کر دیکھے
پھر چند دن پیٹ بھر کے دیکھے
پڑھنے پڑھانے اور دیگر عبادات و ذکر و اذکار میں زمین و آسمان کا فرق محسوس کرے گا
بھرے پیٹ سے نہ سبق جلد یاد ہوتا ہے نہ علمی نکات کا ورود ہوتا ہے
خالی پیٹ سے سبق جلد یاد ہوتا ہے عقل تیز ہوتی ہے حافظہ مضبوط ہوتا ہے اور فکری قوت بڑھتی اور زاویہ نگاہ مستقیم ہوتا ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top