طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 85« »
°°° علماء کو بھی جینے دیں °°°
امام خلیل نحوی نے نحو سیکھنے سمجھنے اور اس میں مہارت چاہنے والوں کے لیئے فرمایا
لا يصل أحد من علم النحو إلى ما يحتاج إليه حتّى يتعلّم ما لا يحتاج إليه
کوئی ایک بھی انسان علمِ نحو کا بقدرِ حاجت حصہ اُس وقت تک حاصل نہیں کر سکتا جب تک وہ نہ سیکھ لے جس کی اُسے حاجت نہیں ہے
بڑی عجیب بات کہی
اور پھر اس پر ابو شمر نے کہا
إذا كان لا يتوصّل إلى ما يحتاج إليه إلاّ بما لا يحتاج إليه فقد صار ما لا يحتاج إليه يحتاج إليه
جب بندہ غیرِ محتاج شے کو حاصل کیئے بغیر محتاج شے حاصل نہیں کر سکتا تو جس کی حاجت نہیں بھی ہے وہ بھی ضروری قرار پاتی ہے
❗ کتاب الحیوان للجاحظ ❗
یہ دونوں قول لکھنے کے بعد جاحظ نے ان کی وضاحت میں اپنی کتاب الحیوان کا ذکر کیا
کتاب الحیوان نام سے لگتی ہے کہ جانوروں کے بارے ہوگی مگر اصل میں عربی ادب کے بارے میں ہے
جاحظ کا اپنی کتاب کی مثال دینے کا مقصد تھا کہ یہ نحو پر مشتمل کتاب نہیں ہے مگر اس میں عربی ادب عربی قصائد و اشعار , مدح و ہجو , محاورات و کنایات وغیرہ پڑھنے سے عربیت میں پختگی آتی ہے
اھلِ زبان کے مزاج و معاملات کی شناسائی نصیب ہوتی ہے
انسان کے بند ذہن کی گرہیں کھلتی ہیں
اھلِ عرب کے طرائف و وقائع سے طبعیت میں وسعت پیدا ہوتی ہے
اخبارِ نساء پڑھنے سے عربوں کا خواتین کے متعلق نظریہ سامنے آتا ہے
شجاعت و بزدلی, جود و بخل , حماقت و فطانت کے واقعات پڑھنے سے عقل میں پختگی آتی ہے
گوکہ یہ مضامین نحو کے لیئے غیر ضروری ہیں مگر یہ ایسے غیر ضروری ہیں جو ضروری ہیں
کیونکہ انسان کسی قوم کی زبان اس وقت تک نہیں سمجھ سکتا جب تک اس قوم کا انفرادی و اجتماعی نظام نہ سمجھ لے
یہی وجہ ہے علماءِ اسلام و فقہاءِ انام نے اخبار النساء و اخبار الحمقی و بخلاء حتی کہ عشاق کی خبریں جمع کی ہیں
حالانکہ فقہی مسائل سے ان کا کچھ لینا دینا نہیں
مگر اس کی دو وجہیں ہیں
ایک وجہ تو وہ جو اوپر تفصیل سے ذکر کی دوسری وجہ خود مزاجِ شریعت ہے کہ ذہن کو تازگی دینے کے لیئے عجائب و لطائف سنے سنائے جائیں
اعلی حضرت امام اھلِ سنت نے فتاوی رضویہ میں فرمایا ہے کہ عالم کو ذہنی تازگی کے لیئے شعر پڑھنا سننا مستحب ہے
اکابر علماء بلکہ مجتہدین عظام شعر و شاعری نہ صرف کرتے بلکہ حدیث کا سبق موقوف کر کے شعر سنتے تھے
ہمارے دور میں سب سے بڑی مصیبت جو میں سمجھ پایا ہوں وہ دین کے مزاج سے ناشناسائی ہے
فرض و واجب کے تارک , حرام و مکروہات کے عامل صرف مزاجِ شریعت نہ سمجھنے کی وجہ سے مباح بلکہ مستحب شے کو حرام قرار دے دیتے ہیں
یہی مثال لے لیں علماء شاعری کریں یا لطائف سے ذہن تازہ کریں تو دین مزاج سے نا آشنا لوگ فوراً اپنے تئیں حق بات کا علم اٹھا آجاتے ہیں حضرت اپ کو مناسب نہیں ہے
حضرت آج کا دور علماء کی شاعری کا متحمل نہیں ہے
ہتھ ہولا رکھیں جناب
جناب عالم انسان نہیں؟
وہ اس معاشرے کا فرد نہیں؟
عالم میں حس نہیں؟
بڑے بیباک ہیں جناب آپ تو ایک عالم کو سمجھا رہے ہیں یہ دور متحمل نہیں
بڑے نادان ہیں اپ جناب کہ جن سے آپ کو سمجھنا ہے آپ ان کو سمجھانے چل پڑے
الغرض طالبِ علم نحو کی پختگی چاہتا ہے تو عربی ادب سے سگا رشتہ بنا لے
یہ ایسا غیر ضروری کام ہے جو ضروری ہے
مسلسل چند ماہ عربی ادب مثل کتاب الحیوان, البیان و التبیین, العقد الفرید وغیرہ پڑھے
عربیت میں نکھار نحو میں سدھار آئے گا کردار میں مہکار پیدا ہوگی
✍️ #سیدمہتاب_عالم
