پرلے درجے کا احمق

ردِالحادو_لادینیت 29

آپ منتقل ہونے والے تو نہیں؟

عالمِ مدینہ مجتہدِ مطلق امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا

الجدال في الدِّين يُنشئ المراء ويَذهب بنور العلم ويُقسِّي القلب ويورث الضعفَ
دین میں بحث جھگڑا پیدا کرتی ہے اور علم کا نور ختم کر دیتی ہے اور دل سخت کر دیتی ہے اور دین میں کمزوری پیدا کر دیتی ہے

❗نزهة الفضلاء ❗

آپ مشاہدہ کر لیں جو بندہ بحث و مباحثہ کرتا ہے وہ کینہ پرور بن جاتا ہے
اور اس سے بڑی بات کہ جلد دین سے بیزار ہو کر الحاد کی طرف چلا جاتا ہے
ایک شخص امام مالک کے پاس آیا اور کہنے لگا آپ میری بات مع دلیل سن لیں
فرمایا
پھر کیا ہوگا؟
کہنے لگا اگر میں آپ پر غالب آگیا تو آپ میری اتباع کرنا
امام مالک نے فرمایا
اگر کوئی تیسرا آگیا اور وہ اپنی دلیل سے ہم دونوں پر غالب آگیا تو؟
کہنے لگا
پھر ہم دونوں اس کی اتباع کریں گے
امام مالک نے فرمایا

يا عبدالله بعث الله عزَّ وجلَّ محمدًا صلى الله عليه وسلم بدِين واحد وأراك تنتقل من دِين إلى آخَر
اے الله کے بندے
الله رب العالمین نے جناب محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک دین دے کر بھیجا ہے جبکہ میں تجھے ایک دین سے دوسرے دین کی طرف منتقل ہونے والا دیکھ رہا ہوں
❗الشریعہ للاجری ❗
یعنی دینی احکام کتابوں میں مسطور مسلمانوں میں مشہور ہیں تو ایک نئی بات نکال کر نیا دین بنانا چاہتا ہے؟
خلیفہ راشد عمر بن عبد العزیز رضی الله عنہ نے فرمایا
من جعل دينه غرضا للخصومات أكثر التنقل
جس نے اپنے دین کو جھگڑوں کے لیئے استعمال کیا وہ اکثر منتقل ہوتا ہے
❗مسند الدارمی ❗
یعنی وہ کسی ایک قول کسی ایک مذہب کسی ایک فقیہ کی فقہ پر نہیں ٹھہرتا
کبھی ایک پر دل جمتا ہے کبھی دوسرے پر تو کبھی تیسرے پر اسی طرح دینِ اسلام کے مُسلَّم اصولوں پر بھی اسے شک ہونے لگتا ہے اور یوں دینِ اسلام سے ہی منتقل ہو کر بے دین بن جاتا ہے
جیسا کہ ہمارے دور میں غامدی, جہلمی وغیرہ یہ جھگڑالو فضاء قائم کرتے ہیں
ان کو سننے والے ہمیشہ بے چین بے سکون رہتے ہیں
اور یہ لوگ پھر اپنی بے چینی چھپانے کو علماءِ اسلام کا مذاق اُڑاتے ہیں
دین ایسا واضح ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا
تركتكم على البيضاء ليلها كنهارها لا يزيغ عنها بعدي إلا هالك
میں نے تمہیں ایسے روشن دین پر چھوڑ رہا ہوں جس کی رات دن کی طرح صاف ہے اس دین سے وہی بھٹکے گا جو ہلاک ہونے والا ہوگا
❗ابن ماجہ ❗
جس دین کی کی رات بھی دن کی طرح روشن ہے اس میں کجی تلاش کرنے والا پرلے درجے کا احمق انسان ہے
اب اس دین میں کجی کیسے کون تلاش کرتا ہے یہ اس مضمون کی روح ہے
وہ یوں سمجھیں کہ
چودہ سو سال سے توحید و رسالت, قبر و حشر,جنت و دوزخ,معجزہ و کرامت, اصحابِ رسول و اھلِ بیتِ رسول, اسلامی لباس و اخلاق سب کچھ لکھا ہوا ہے
اور نوے فیصد مسلمان یعنی اھلِ سنت و جماعت اس نوے فیصد کے مُبَیِّن و ترجمان ہیں اور چودہ سو سال سے آج تک یک زبان ہیں تو نئے نئے غامدی و جہلمی جیسے الحاد کے راستے قبول کرنے والا احمق جلد ملحد نہیں بنے گا تو کیا پکا مؤمن بنے گا؟
کیونکہ ان سانپوں کا کام فکری شکوک و شبہات پیدا کر کے منتقل ہونے والا بنانا ہے
اگر آپ کو بیس تیس سال دین پڑھنے پھر پڑھانے والے علماء مطمئن نہیں کر پا رہے نہ چودہ سو سالہ دور کے علماءِ اسلام کے اقوال مطمئن کر پاتے ہیں تو خبردار خبردار خبردار چونک جائیں
جاگ جائیں
ہوش میں آئیں
آپ منتقل ہونے والے ہیں
اور یہ منتقلی آپ کو اسلام سے نکال کر الحاد کی طرف لے جانے والی ہے`
کیونکہ
جسے کسی فن کا فنکار قائل نہ کر سکے
جسے ماہر و ایکسپرٹ نہ منا سکے مگر غیر متعلقہ شخص قائل کر لے بس وہ منتقل ہوا ہی چاہتا ہے
یعنی علماء اسلام ماہرِ علومِ قران و حدیث ہیں آپ ان سے قائل نہ ہوئے اور غامدی و جہلمی جیسے لفظوں کے کھلاڑیوں کے آگے لگ جائیں تو بس آپ منتقل ہی ہیں
اور ایسے انتقال (دین سے نکلنا) سے انتقال (مرنا) بہتر ہے
✍️ #سیدمہتابعالم

Scroll to Top