عشقِ_الہی_مقصدِ_حیات 118
ایک عارف کامل سے پوچھا گیا
الله رب العزت تک کیسے پہنچا جائے ؟
بہت شاندار نحوی لہجے میں جواب دیا
إن أقوى حركات الإعراب الكسر وهو الذل والتواضع لله ثم بعد ذلك يأتي الضم وهو ضمك إلى الصالحين فإذا ضمك الله إلى الصالحين جاء الفتح من الله ثم يأتي السكون الذي هو التسليم لله بمعنى تأتي إلى أهل الله تعالى منكسر قلبك فيضمك إليه فيفتح الله لك فيسكن قلبك
سب سے قوی حرکت کسرہ ہے اور کسر الله وحده لا شريك کی بارگاہ میں ذلت و عاجزی کا نام ہے
پھر اس کے بعد ضمہ ہے اور وہ تمہیں صالحین سے ضم (ملانے) کا نام ہے تو جب الله تعالى تمہیں صالحین سے ملاتا ہے تو تم پر اس کی طرف سے فتح ( غیب کے دروازے کھلنا) آتی ہے پھر اس کے بعد سکون آتا ہے اور وہ خود کو الله رب العزت کے حوالے کر دینے کا نام ہے
اس کا معنیٰ یہ ہوا کہ جب تم اس کی بارگاہ میں ٹوٹے دل کے ساتھ آؤ گے تو وہ تمہیں اپنی برحمت سے ملا دے گا اور تم پر رحمت کے دروازے کھول دے گا اور تمہارے دل کو سکون عطاء فرمائے گا
اُس کی بارگاہ میں کسرہ ہی ضمہ ہے وہاں جو رفع چاہے گا محذوف ہو جائے گا بلکہ نسیاً مسنیاً ہو جائے گا
اس کی بارگاہِ رحمت میں داخل ہونے کے کئی ابواب ہیں
توحید بابِ اول ہے
ہر موحد حقیقی مدد و استعانت اسی سے چاہتا ہے اسی کی عبادت کرتا ہے اسی کو رب اسی کو معبود مانتا ہے
بابِ توحید کے بعد تسلیم و رضا و صبر و شکر و توکل و رجاء باب کے بعد ابواب ہیں
ہر باب کے بعد نیا باب ہے اور جو باب پار کرتا جاتا ہے وہ قربِ الٰہی کی منازل طے کرتا جاتا ہے
آخر میں بابِ فناء ہے جو خود کو فناء کرے پھر اسے بقاء ملتی ہے اور اسے مطلوب و مقصود نصیب ہوتا ہے اور وہ دیدارِ الٰہی ہے
سیدمہتاب_عالم# ✍️
