عشقِ_سیدِ_عالم 12
كلُّ الوصالِ ِدُونَ وصلِكَ هجرُ
وكُلُّ الهَجرِ دُونَ هَجرِكَ وصلُ
اے میرے ایمان آپ کے بغیر ہر وصل جدائی ہے اور ہر جدائی جو آپ کے ہجر کے بغیر ہو وہ وصل ہے
{ یعنی آپ ساتھ ہیں تو ہر ایک سے انسان سے دوری کوئی معنی نہیں رکھتی }
فيــا لَـيتَ طَيـفاً مِنـكَ يأتـي
وَيا لَيت إنِّي لِهَذا الطَّيفِ أهلُ
کاش آپ کا خواب آتا اور کاش میں اس خواب کا اھل ہوتا
( منصور الحلاج )
اج سک متراں دی ودھیری اے
کیوں دلڑی اداس گھنیری اے
لون لوں وچ شوق چنگیری اے
اج نیناں نے لایاں کیوں جھڑیاں
آپ کے رب کی قسم میری آنکھیں آپ کو دیکھنے کی قابل نہیں ہیں
جب میں سوچتا ہوں آپ مجھے دیکھیں گے تو کانپ جاتا ہوں کہ نفاست و طہارت جن کے در پر سجدہ ریز ہوں وہ ستھری پاکیزہ نوری آنکھیں مجھ غلاظت و نجاست کے ڈھیر کو دیکھیں گی ؟
مگر خیال آتا ہے
ہم نیک ہیں یا بد آخر ہیں تمہارے
نسبت ہے بہت اچھی گر حال برا ہے
نجاست کا ذرہ طہارت کے پیکر سے محبت کر بیٹھا ہے
اس دل پر اختیار کہاں ہے اور یہ اختیار ہونا بھی نہیں چاہے
ز حال مسکیں مکن تغافل دورائے نیناں بنائے بتیاں
کہ تاب ہجراں ندارم اے جاں نہ لیہو کاہے لگائے چھتیاں
اب مسکین سے نظریں نہ پھیریں
شبان ہجراں دراز چوں زلف و روز وصلت چوں عمر کوتاہ
سکھی پیا کو جو میں نہ دیکھوں تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں
جدائی کی سیاہ رات بہت طویل ہوگئی ہے
چوں شمع سوزاں چوں ذرہ حیراں ز مہر آں مہ بگشتم آخر
نہ نیند نیناں نہ انگ چیناں نہ آپ آوے نہ بھیجے پتیاں
شمع کی کی طرح جل رہا ہوں پگھل رہا ہوں
اے کریم میں مجرم ہوں بے وفا نہیں دغا باز نہیں
میری پہلی اور آخری بات یہی ہے
آپ پر تن من دھن اولاد و اجداد قربان
سیدمہتاب_عالم# ✍️
