اسمِ اعظم کی برکات ذکرِ مصطفیٰ کے ساتھ ہیں

عشقِ_سیدِ_عالم 13

امام کمال الدین الدمیری حیاۃ الحیوان میں فرماتے ہیں
ایک موحد مومن سیدی ابراہیم بن ادھم کی بارگاہ میں آیا اور عرض گزار ہوا مجھے اسمِ اعظم سکھائیں
{ اسم اعظم الله رب العزت کا وہ مبارک نام جس کے ساتھ جو بھی دعاء مانگی جائے قبول ہوتی ہے }
سیدی ابراہیم بن ادھم نے فرمایا
صبح و شام یہ کلمات کہو کہ جو خوف زدہ ان کلمات سے دعاء کرے گا اس کا خوف دور ہو جائے گا اور جو سوال کرے گا پورا ہوگا
يا مَن٘ لَهُ وَج٘هٌ لا يَب٘لٰى ونُورٌ لا يُط٘فٰى، واِس٘مٌ لا يُن٘سٰى، وبابٌ لا يُغ٘لَقُ، وسِت٘رٌ لا يُه٘تَكُ، ومُل٘كٌ لا يَف٘نٰى، أَس٘ألُكُ وأَتَوَسَّلُ إِليكَ بِجاهِ مُحَمدٍ صلى الله عليه وسلم أَن٘ تَق٘ضِيَ حاجَتِي٘ وتُع٘طِيَنِي٘ مَس٘أَلَتِي٘
اے وہ جس کی ذات کبھی تباہ نہیں ہوگی جس کا نور کبھی بجھے گا نہیں جس کا نام کبھی بھلایا نہیں جائے گا جس کا دروازہ کبھی بند نہیں ہوتا جس کا پردہ کبھی پھاڑا نہیں جائے گا جس کا ملک کبھی ختم نہیں ہوگا میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تیری بارگاہ میں جناب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کا وسیلہ پیش کرتا ہوں تو میری حاجت پوری فرما اور مجھے میرا سوال عطاء فرما
{حیات الحیوان للامام کمال الدمیری المتوفی 808 ہجری
دار الکتب العلمیہ جلد اول صفحہ 59}
سیدی ابراہیم بن ادھم نے اسم اعظم حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے دعاء مانگنے کو قرار دیا ہے
اور یہ کئی آیات و احادیث سے ماخوذ ہے
جہاں بھی رب العالمین نے اپنی اطاعت کا حکم دیا وہاں حبیب کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے مشروط کیا ہے
تفسیر طبری و قرطبی و بغوی وغیرہ میں آیت کریمہ
و رفعنا لک ذکرک
اور ہم تمہارے لیئے تمہارا ذکر بلند کر دیا
کے تحت ہے
جہاں اللہ رب العزت کا ذکر ہے وہاں اللہ کے رسول کا ذکر ہے حتی کہ نماز جو کہ عبادت ہے اس میں بھی ذکرِ خدا کے ساتھ ذکرِ مصطفیٰ ضروری ہے ورنہ نماز قبول نہیں
اذان و خطبہ حتی کہ غیر مسلم کا ایمان تبھی قبول ہوتا ہے جب وہ ذکرِ خدا کے ساتھ ذکرِ مصطفیٰ کرے گا
پھر دعاء بغیر ذکرِ مصطفیٰ کے بغیر کیسے قبول ہوگی ؟
مستدرک حاکم میں ہے
جب آدم علیہ السلام کی توبہ قبول نہیں ہو رہی تھی تو انہوں نے یوں دعاء کی
يا رب أسألك بحق محمد لما غفرت لي
یا رب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے مجھے معاف فرما
تو الله رب العزت ان کی توبہ قبول فرمائی
{مستدرک حاکم}
حضرت عمر فاروق رضی الله عنہ کا فرمان ہے
إن الدعاء موقوف بين السماء والأرض لا يصعد منه شيء حتى تصلي على نبيك صلى الله عليه وسلم
دعاء زمین و آسمان کے درمیان روک دی جاتی ہے اس میں کچھ بھی آسمان کی طرف بلند نہیں ہوتا جب تک تم اپنے
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نہ پڑھ لو
{ترمذی شریف}
امام ابن عطاء اللہ السکندری فرماتے ہیں
جب دعاء مانگو تو اول و آخر درود شریف پڑھ لیا کرو کیونکہ درود شریف بہر صورت قبول ہوتا ہے اور الله کریم ہے کریم کی یہ شان نہیں کہ کچھ قبول کر لے کچھ چھوڑ دے
یعنی درود شریف کی برکت سے دعاء ضرور قبول ہوگی
معلوم ہوا یہی اسم اعظم ہے کہ ذکرِ خدا کے ساتھ ذکرِ مصطفیٰ ہو
حسان الھند کہتے ہیں
ذِکر خدا جو اُن سے جدا چاہو منکرو
وَاللہ ذِکرِ حق نہیں کنجی سَقَرکی ہے

ذکرِ مصطفیٰ ذکرِ خدا ہی تو ہے

بے اُن کے واسطہ کے خدا کچھ عطا کرے
حاشا غلط غلط یہ ہوس بے بصر کی ہے

ان کی مہر ان کے ذکر کے ان کے نام کے بغیر دنیا و آخرت کا ذرہ بھی نہیں ملتا
سیدمہتاب_عالم# ✍️

Scroll to Top