مہذب انسان اور غیر مہذب انسان کا پردہ

کامیاب_خواتین 38

°°° مرد کا ایمان غیرت اور عورت کا ایمان حیاء ہے °°°

پردہ دو طرح کا ہوتا ہے
عورت کے چہرے پر یا بے پردہ عورت کے محرم مرد کی عقل پر ہوتا ہے

اسی کے متعلق اکبر الہ آبادی نے کہا تھا

بے پردہ کل جو آئیں نظر چند بیبیاں
اکبرؔ زمیں میں غیرت قومی سے گڑ گیا

پوچھا جو میں نے آپ کا پردہ وہ کیا ہوا
کہنے لگیں کہ عقل پہ مردوں کے پڑ گیا

پردے کی ایک تیسری قسم اوپر والی دونوں صورتوں سے زیادہ خطرناک ہے وہ ہے عورت کی عقل پر پردہ ہو

جب عورت کی عقل پر پردہ ہوتا ہے تو پوری نسل ننگی ہوجاتی ہے
ایسی عورت یہ کہتی نظر آتی ہے کہ پردہ دل میں ہونا چاہیئے یا یوں کہتی ہے دل صاف ہونا چاہیئے
جبکہ یہ عقل کی ماری دنیا کے سبھی کام دل سے باہر نکل کر کرتی ہے
کبھی دل میں کھانا کھا کے پیٹ نہیں بھرتی
کبھی دل میں پانی پی پر پیاس نہیں بجھاتی
صرف پردے کے لیئے یہ بیہودہ بات کرتی ہے
دنیا میں جاندار دو طرح کے ہوتے ہیں
انسان اور جانور
پھر ان دونوں میں صرف انسان پردہ کرتا ہے

جانور پردہ نہیں کرتا

اور پھر انسان دو قِسموں پر مشتمل ہیں پہلی مہذب دنیا دوسری غیر مہذب دنیا

مہذب انسان کی فطری بات سمجھیں کہ ہر انسان پردے کا قائل اور دل سے پردہ تسلیم کرتا ہے اگرچہ وہ مسلمان ہو یا اھلِ کتاب میں سے ہو یا بدھ مت یا ہندو مشرک ہو
ہر مہذب انسان پردے کو تسلیم کرتا ہے مگر اپنے کامل مہذب ہونے یا کم مہذب ہونے کی وجہ سے پردہ بھی کم زیادہ اختیار کرتا ہے
غیر مہذب تو جانوروں کی طرح مرد و خواتین ننگے رہتے ہیں
مہذب انسانوں میں جو سب سے زیادہ مہذب ہیں ان کی خواتین مکمل پردہ کرتی ہیں یعنی ہاتھ پاؤں چہرہ وغیرہ چھپاتی ہیں
اور پھر انسانوں میں جتنی تہذیب کم ہوتی جاتی ہے وہ بے پردہ ہوتا جاتا ہے اور بے پردگی میں جانوروں جیسا ہوتا جاتا ہے
یہی وجہ ہے مہذب انسانوں میں سب سے کم مہذب ہندو مشرک ہیں ان کی خواتین کا لباس بیہودہ اور جسم کے وہ اعضاء بھی ننگے ہوتے ہیں جو مہذب انسان کے تصور میں نہیں ہوتے
مگر ان میں تہذیب بھی ہے اسی وجہ سے عورتوں کے سینہ و شرم گاہ وغیرہ کو ڈھانپتے ہیں ورنہ غیر مہذب یہ بھی نہیں ڈھانپتے
تو ثابت ہوا جتنی تہذیب انسان میں زیادہ ہوگی اُتنا پردہ زیادہ ہوگا
بے پردہ حیوانوں کے قریب انسان ہوتے ہیں
پردے کی دو اقسام ہیں

سترِ غیرت (غیرت کا پردہ) یعنی ماں بہن یا بیوی کو کوئی نہ دیکھے
سترِ حیاء (حیاء کا پردہ) یعنی باپ بیٹے یا بھائی کے سامنے اعضاء ظاہر نہ کریں

ساڑھی یا جینز, پینٹ یا تنگ چست لباس پہننے والی خواتین میں نہ سترِ غیرت ہے نہ سترِ حیاء ہے
اور یہ بیماری ہندوؤں کی طرف سے بر صغیر کے مسلمانوں میں آئی ہوئی ہے
ورنہ اسلامی نکتہ نظر سے سترِ غیرت بھی ضروری ہے اور سترِ حیاء بھی ضروری ہے
اگر اپ کے والد یا بھائی اپ کو پردہ کرنے کا کہتے ہیں تو وہ غیرت ہے کہ اپ کوئی عام خاتون نہیں ہیں
ہر ایرا غیرا آپ کو نہ دیکھے یہ سترِ غیرت ہے اور غیرت ایمانی صفت ہے بے ایمان کبھی غیرت مند نہیں ہو سکتا
یہی وجہ ہے ساڑھی ہندؤں کا لباس ہے
اور اگر آپ اپنے اعضاء اپنے باپ بھائی سے چھپاتی ہیں تو یہ سترِ حیاء ہے کہ حیاء ایمان کا حصہ ہے بے حیاء ایمان والا نہیں ہوسکتا
لہذا اپنے مَردوں کو غیرت مند رہنے دیں اور خود حیاء دار بنیں
یہی کامل ایمان کی نشانی ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top