کامیاب_خواتین 39
عورت کے ہاتھوں میں کتاب ایک بہترین باشعور اور مہذب نسل کی بنیاد ہوتی ہے
مگر عورت کے ہاتھ میں موبائل بدترین بے شعور اور غیر مہذب نسل کی ابتداء ہے
آپ ہزار دلائل سے سامنے والے کو مطمئن کر سکتے ہیں کہ موبائل آج کے دور کی لازمی شے ہے حتی کہ اپنے دل کو بھی منا سکتے ہیں
مگر حقیقت کو جھٹلا نہیں سکتے
کتاب ذہن کھولتی ہے
موبائل ذہن بیمار کرتا ہے
کتاب تجربہ کار مفکر کی خالص فکر پر مشتمل ایک درسگاہ ہوتی ہے
موبائل بے ڈھنگے جذبات پر مشتمل کچے جوانوں کی جذباتی باتوں سے بھرپور ایک میدانِ جنگ ہے
آج کل کے والدین بڑے ہمت و حوصلے والے ہیں یا بے پرواہ اور اولاد کے دشمن کہ لیں کیونکہ ہمارے دور میں کسی انسان میں ایک گناہ ہوتا مثلاً جھوٹ یا چوری یا سگریٹ نوشی وغیرہ تو ماں باپ بچوں کو اس کے قریب نہیں جانے دیتے تھے
مگر آج موبائل ہر جرم و گناہ سکھاتا ہے والدین یہ بلاء بچوں کو بخوشی دے دیتے ہیں
یہاں چار حرف لکھنے پر ہر جرم بچے کی دسترس میں ہوتا ہے مگر والدین اس فلسفے کے تحت خاموش رہتے ہیں کہ چلو کچھ دیر ہمیں سکون تو مل رہا ہے
اور پھر لڑکیوں کے ہاتھ موبائل تو بندر کے ہاتھ ماچس والی بات ہے کہ پلک جھپکتے ہی جنگل میں آگ بھڑکا دے گا
یہ وہی فتنے ہیں جن کی خبر صادق و مصدوق حبیب و محبوب صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی
يدخل حَرّها بيت كل مسلم
اس فتنے کی تپش ہر مسلمان گھر تک پہنچے گی
❗مسند احمد ❗
جب فتنے گھر میں داخلے ہونے لگیں تو ان کا سدِ باب گھر سے ہی کیا جائے یعنی اولاً خواتین کو اس کی تپش سے بچایا جائے کیونکہ مومنہ خاتون اس مرد کے نصف دین کی محافظہ ہوتی ہے جو مرد دین کا محافظ ہوتا ہے
اس لحاظ سے خاتون کی عزت و عصمت , عظمت و شرافت , منزلت و کرامت کا فتنے اور اس کی تپش سے پاک صاف رہنا زیادہ ضروری ہے
وہ مجاہد جو اسلام کی حفاظت کرتا ہے اس کی تیاری کرنے والی مجاہدہ کو بھی اسلامی تعلیم و تربیت و اسلامی تاریخ پڑھا کر گھول کے پلا کر تیار کیا جائے
فطری اصول ہے اصیل گھوڑی نہ ہو تو اصیل گھوڑا پیدا نہیں ہوتا
نجیب الطرفین بچہ ہی معزز و مکرم ہوتا ہے
آج ذلت و رسوائی کیوں ہے؟
کیونکہ مجاہد تیار کرنے والی مجاہدہ خود تیار نہیں ہے
اس کی عملی مثال موجودہ دور میں یوں سمجھیں کہ مصر کا صدر اور آل سعود کا ولی عہد دونوں کی پرورش یہودی عورت نے کی ہے
اور آپ اس وقت فلسطین کے حالات دیکھ رہے ہیں کہ یہ دونوں طاقتور ہونے کے باجود مخنث بنے بیٹھے ہیں
کیوں؟
کیونکہ کبھی بد نسل گھوڑی سے اصیل گھوڑا پیدا نہیں ہوتا
پچھلے سو سال سے دنیا بھر میں دنیاوی تعلیم کو فوقیت دی گئی لڑکیوں کو جو اب دادی نانی وغیرہ ہیں اب تک سب کو دنیاوی تعلیم سے جاہل بنایا گیا اور جن والدین کا ذہن دینی تھا انہوں نے دنیاوی تعلیم کے مقابلے میں آ کر غلطی یہ کر دی کہ اپنی بچیوں کو اسکول تو نہ بھیجا مگر دینی تعلیم بھی نہیں دی صرف ناظرہ قرآن پڑھا کر دیندار ہونے اور انگریزی تعلیم مخالف ہونے کا ثبوت دیا
اگر وہی لوگ اپنی لڑکیوں کو دین کی تعلیم دیتے تو آج رنگ اور ہوتا
کیونکہ آپ غور کریں ہماری دادیاں نانیاں اسکول سے تو دور تھیں مگر دینی عالمہ بھی نہیں تھیں
اتنے بڑے پیمانے پر اگر اس وقت عالمات تیار ہوتیں تو آج رنگ ہی اور ہوتا
وہ موقع ہمارے بڑوں نے ہاتھ سے نکال دیا ہے مگر یہ موقع آپ کے ہاتھ میں ہے
کہ اپنی لڑکیوں کو موبائل سے دور رکھیں کتاب ہاتھ میں دیں
اگر لڑکیوں کے ہاتھ میں
موبائل دیں گے تو آنے والی نسل ٹک ٹاکر, یوٹیوبر , ولاگر , الغرض سوشل میڈیا کے دلدل میں پھنس کر رہ جائے گی عملی دینی کام سے دور ہو کر بے دین ہونے کا امکان ہے
اور اگر لڑکیوں کے ہاتھ میں
کتاب دیں گے تو آنے والی نسل علماء و فقہاء و مجاہدین تیار ہوگی
آپ کی آنے والی نسل آپ کے فیصلے پر منحصر اور آپ کے فیصلے کی منتظر ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
