آلِ_رسول_محبوبِ_رسول 19
نقشبندی حضرات میں بڑھتی ناصبیت
امام ابن حجر مکی متوفی 984 ہجری نے فتاویٰ حدیثیہ میں صفحہ 206 پر ابن تیمیہ کے بارے لکھا
ابن تیمیہ کہتا ہے
مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے تین سو سے زیادہ مسائل میں خطاء کی ہے (معاذ اللہ)
باب علم وہ کہ جن کا ہونا صدیق و عمر رضی الله عنھما کو ڈھارس دیتا ہے تین سو مسائل میں خطاء کریں گے؟
اہم ترین نکتہ سمجھیں
ہمارے ہاں سنیوں کے لباس میں چھپے ناصبی خصوصیاتِ مولا علی اور فضائل و کمالات مولا علی پر جو انگلیاں اٹھاتے ہیں ان کا ماخذ یہی ابن تیمیہ کی کتب ہیں
علی کو دیکھنا عبادت ہے اس کو کہنا یہ بڑی فضیلت نہیں یہ بھی ابن تیمیہ کا قول ہے
جسے آج کل ایک بڈھا ناصبی بیان کرتا نظر آتا ہے
حسین منی و انا منھم کے بارے کہنا اس میں اور حضرات شریک ہیں یہ بھی ابن تیمیہ کا اھلِ بیت سے متعصبانہ قول ہے
یہ بھی بڈھا ناصبی بیان کرتا نظر آتا ہے
اخی رسول خصوصیت جناب مرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم نہیں یہ بھی ابن تیمیہ کی بڑھک ہے
جبکہ اعلی حضرت نے اس کو خصائصِ مولا علی میں ذکر کیا
مولا علی کے اعلم الصحابہ ہونے کو رد کرنا بھی ابن تیمیہ کا قول ہے جسکو یہ نقل کرتے ہیں
جبکہ تصفیہ میں پیر مہر علی شاہ رحمہ اللّٰه نے ذکر کیا ہے.
پیر مہر علی شاہ رحمہ اللّٰه کا کلام ذرا طویل ہے ہم یہاں وہ مِن و عَن نقل کرتے ہیں تاکہ سنی جِلا پائیں اور ناصبی جَل جائیں
اور متن حدیث میں علم سے مراد خاص علم ہے یعنی علم اسرار مطلب یہ ہے کہ میں علم اسرار کا شہر ہوں اور علی اس شہر کا دروازہ ہے بغیر از وساطتِ علی کوئی علمِ اسرار کو حاصل نہیں کر سکتا اور اگر درِ مدینۃ العلم سے عام علم لیا جائے ظاہری ہو یا باطنی تو بالخصوص علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا دروازہ ہونا اس لحاظ سے نہیں کہ اور صحابی کو اصلا علم ہی نہیں تھا
بلکہ اس کو ایسے سمجھنا چاہیے جیسے کہ کوئی استاد اپنے لائق، ممتاز ،اعلی درجے کے ذہین طالب علم کی نسبت کہے کہ میرا علم کما حقہ اور پورے طور پر اسی شخص کو پہنچے گا جس نے بوساطت میرے فلاں طالب کے حاصل کیا
گو اور میرے شاگرد بھی اس شاگرد کی طرح مجھ ہی سے مستفید ہیں مگر فلاں چونکہ فہم سخن اور ادا و بیانِ مسائل میں ممتازانہ طرز رکھتا ہے اور بوجہ کمالِ اتحاد فی ما بین اس کو اعلی درجے کا ملکہ پیدا ہو گیا ہے جس کے سبب سے ہر ایک قسم کے مشکل و معضل مسائل کے پیش آنے پر ان کی پوری پوری تشریح و حل پر قادر ہوگا۔
لہذا میرے علم کا ذریعہ اور واسطہ ہونا اسے کا حق ہے۔
دوسرے شاگردوں کو بھی حل مشکلات و معضلات میں اسی کی طرف رجوع کرنا چاہیے
اور ظاہر ہے کہ بعد آں حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی مشکل مسئلہ کے پیش آنے پر شیخین وغیرہما بھی اپ ہی سے امداد لیتے تھے
جیسا کہ حضرت عمر کے فرمان “لو لا علی لھلک عمر” اور “قضیة ولا ابا حسن لھا” مشہور تمثیلات سے ہیں
آپ کی علمیت اور فضیلتِ علمی پر احادیث صحیحہ جو اہل سنت علماء کرام کی تصنیفات میں بااسناد مذکور ہیں اسی حدیث مدینۃ العلم کی تائید کرتی ہیں ( اقضاکم علی) علی باب علمی مبین لامتی ما ارسلت به من بعدی
بعدِ فتح خیبر انت باب علمی کا اشارہ ہوا
ایسا ہی آپ کے حق میں عیبة علمی وبابی الذی اوتی منه اور نیز ھذا اول من آمن بی واول من یصاحفنی یوم القیامة
اور اعاظم اصحاب مثل شیخین وغیرہما رضی اللہ تعالی عنہم ہر مشکل اور معضل امر میں اپ سے مستفید ہوا کرتے تھے چنانچہ علامہ نووی تہذیب الاسماء میں لکھتے ہیں: “وسؤال کبار الصحابة له وجوعھم الی فتاواہ واقواله فی المواطن الکثیرۃ والمسائل المعضلات مشھور” یعنی اکابر اصحاب کا استفادہ اور مشکلات میں حل طلبی مشہور امر ہے۔
ایسا ہی ابن روزبہاں سے منقول ہے رجوع الصحابة الیہ في الفتوی غیر بعید لانه كان من مفتي الصحابة و الرجوع إلى المفتي شان المستفتين وان رجوع عمر إليه كرجوع الآئمۃ وولاۃ العدل الی علماء الآئمۃ
صحابہ کرام کا مولا علی کی طرف رجوع کرنا کوئی بعید نہیں ہے کیونکہ علی مفتی تھے اور مفتی کی طرف رجوع کرنا فتوی پوچھنے والوں کا کام ہوتا ہے اور عمر کا علی کی طرف رجوع کرنا ایسا ہے جیسے حاکم کا اپنے علماء سے سوال کرنا
علامہ عجیلی ذخیرۃ المآل میں فرماتے ہیں: ولم یکن یسأل منھم واحدا وکلھم یسأله مسترشدا وما ذلک الا لخمود نارا لسوال تحت نورالاطلاع
یعنی علی کرم اللہ وجہہ الکریم کسی سے کوئی مسئلہ دریافت نہیں فرماتے تھے بلکہ سب صحابہ آپ سے مستفید ہوتے تھے
❗صفحہ 81❗
مزید آگے فرماتے ہیں
کتب تفسیر کے ملاحظہ سے ثابت ہوتا ہے کہ علم تفسیر کا اکثر حصہ سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ اور آپ کے شاگرد عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے ماخوذ ہے ۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے کسی نے سوال کیا آپ کا علم بمقابلہ علم علی بن ابی طالب کیا نسبت رکھتا ہے؟
فرمایا کہ جیسا کہ قطرہ سمندر سے
علم فقہ کا ماخذ ومعدن بھی آپ ہی ہیں اور ” وکل فقیه فی الاسلام فھو عیال علیه ومستفید من فقھه” قضیہ مسلمہ ہے
[یعنی اسلام میں ہر فقیہ آپ کی عیال ہے]
کیونکہ سارے فقہاء مثل امام ابو یوسف اور امام محمد وغیرہما امام ابو حنیفہ کے شاگرد ہیں۔ایسا ہی امام شافعی نے فقہ امام محمد سے لی ہے اور امام احمد بن حنبل نے امام شافعی سے بس یہ سب لوگ فق میں نعمان بن ثابت ابو حنیفہ کوفی کے ریزہ چین ہیں اور ابو حنیفہ کوفی کا ایک سلسلہ بوساطت عبداللہ بن مسعود اور دوسرا بذریعہ حسین بن علی امیرِ عرب سیدنا علی بن ابی طالب کو پہنچتا ہے
پہلا سلسلہ حماد ابراہیم نخی القمہ عبداللہ بن مسعود علی کرم اللہ وجہ و علیہم الرضوان
دوسرا سلسلہ امام جعفر صادق، امام محمد باقر،امام زین العابدین امام حسین ،سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنھم
اخبرنی ابو المحاسن الحسن بن علی فی کتابه الیَّ من بخارا اخبرنا ابو اسحاق ابراہیم بن اسماعیل الزاہد الصفار انا ابو نصر احمد بن محمد بن مسلم اخبرنا ابو عبداللہ محمد بن عمر اخبرنا ابو محمد الحارثی باسنادہ الی ابی البختری قال دخل ابو حنیفہ علی جعفر بن محمد الصادق فلما نظر الیہ جعفر قال کانی انظر الیک وانت تحیی سنة جدی صلی اللہ علیہ وسلم بعد ما اندرست وتکون مفزعا لکل ملھوف وغیاثا لکل مھموم بک یسلک المتحیرون اذا وقفوا وتھدیھم الی الواضح من الطریق اذا تحیروا فلک من الله العون و التوفیق حتی یسلک الربانیون بک الطریق ( مناقب ابی حنیفہ للکردی صاحب فتاوی بزازیہ)
مزید فرمایا
یعنی ابو حنیفہ نے جب امام جعفر صادق کی عالی جناب میں شرف حصور حاصل کیا حضرت امام جعفر صادق نے دیکھتے ہی فرمایا کہ گویا میں تجھے اپنے نانا پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سنت کا اس کے مٹ جانے کے بعد زندہ کرنے والا دیکھتا ہوں اور تو ہر مغموم و مھموم اور غمگین کے لیے جائے پناہ اور فریاد رس ہوگا راستہ میں کھڑا ہونے والا حیرت زدہ تیری رہنمائی سے شاہی راستے کو پائے گا بس تیرے لیے خدا کی جانب سے امداد اور توفیق ہو تاکہ خدائی لوگ تیرے ارشاد کی امداد سے راستے میں چلیں
اس سے شیعہ ضرات کا یہ اعتراض بھی جاتا رہا کہ امام ابو حنیفہ کی تقلید کیوں کی جاتی ہے
ایسا ہی مالک بن انس نے ربیعہ رائی سے علم حاصل کیا اور اس نے عکرمہ سے اور عکرمہ نے عبداللہ بن عباس سے اور اس نے سیدنا علی کرم اللہ وجہہ سے
اور نیز فقہائے صحابہ عمر بن خطاب اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنھما نے فقہ علی رضی اللہ تعالی عنہ سے لی
خلیفہ ثانی کا رجوع ہر مشکل میں علی کی طرف اور ان کے مقولہ مشہور ہے ‘لولا علی لھلک” عمر یعنی اگر علی موجود نہ ہوتا اس میں شک نہیں کہ عمر بوجہ غلط فہمی ہلاک ہو گیا تھا
اور “لا یفتین احد فی المسجد وعلی حاضر” یعنی مسجد میں علی کی موجودگی کے وقت کسی کو فتوی دینے کا حق نہیں۔
ایسا ہی امامیہ و اشاعرہ و ماتریدیہ و معتزلہ وغیرہ کے علوم کا منتہی بھی علی بن ابی طالب ہی ہیں۔
مسئلہ منبریہ کے مفتی “صار ثمنھا تسعا” بلا تامل اثنائے خطبہ میں کہنے والے آپ ہی ہیں۔
ششماہی پر وضع حمل اور ایسا ہی حامل زانیہ کے مفتی آپ ہی ہیں۔
ایسا ہی بوجہ ہیبتِ خلیفہ ثانی حاملہ عورت کا بچہ گر جانے پر بھی آپ نے ہی خلیفہ ثانی کو فرمایا تھا “علیک غرۃ“یعنی تجھ پر اے عمر ایک غلام کا ازاد کرنا واجب ہے، حالانکہ پہلے خلیفہ ثانی کو اکابر صحابہ سے دریافت کرنے پر یہ جواب ملا تھا “لا شی علیک انما انت مؤدب” یعنی اپ پر کوئی چیز واجب نہیں کیونکہ آپ ادب سکھانے والے ہیں
ان اصحاب کے متعلق سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں
“ان کانوا راقبوک فقد غشوک وان کان ھذا جھدا لھم فقد اخطاؤا“
یعنی اصحاب نے اگر تمہاری وجاہت کی وجہ سے ایسا کیا ہے تو انہوں نے تیرے ساتھ دھوکہ کیا ہے اگر ان کا مبلغ علمی اتنا ہی تھا تو انہوں نے حکم میں غلطی کی اور خطا کی ہے
علم عربیت اور نحو کے موجد بھی آپ ہی ہیں
ابو الاسود دئلی پر اصول و قوانین کا املا آپ نے فرمایا
❗تصفیہ مابین سنی و شیعہ صفحہ 87 ❗
اس طرح کے مغالطے ہمارے دور میں ایک بڈھے شیطان کی طرف سے اٹھائے جاتے ہیں
معذرت کے ساتھ یہ تلبیسِ ابلیس اکثر نقشبندی حضرات کرتے ہیں کیونکہ ان میں تعصبِ سلسلہ ہے
سلسلہَ عالیہ نقشبندیہ کا منتہیٰ سیدنا صدیقِ اکبر رضی الله عنہ کی ذات بابرکات ہے اسی وجہ سے یہ لوگ حمایتِ سلسلہ میں ایسی واہیات باتیں کرتے ہیں
بلاشبہ وہ مسلمانوں کے پہلے خلیفہ وہ افضل البشر بعد الانبیاء وہ تاجدارِ صداقت ابو بکر صدیق اکبر رضی الله عنہ ان نامرادوں سے بیزار ہیں جو ان کے پیارے علی المرتضی کی شان گھٹاتے ہیں اگرچہ خود کو صدیقی کہیں یا نقشبندی کہیں ❗
نقشبندی حضرات میں کچھ بے شرموں نے اپنی زندگی اسی بات پر صرف کر رکھی ہے کہ خصائص و فضائلِ اھلِ بیتِ رسول کو اولاً موضوع ثابت کرنا دوم دیگر صالحین کو اس کا اھل ثابت کرنا سوم عامیانہ انداز میں بیان کرتے گزر جانا کسی نے بڑی حد تک درست بات کی ہے کہ چشتی بگڑتا ہے تو رافضی بن جاتا ہے نقشبندی بگڑتا ہے تو ناصبی بن جاتا ہے
الغرض ابن تیمیہ نے ایسی بے شمار خوبیوں کو رد کیا ہے پھر یہ نام نہاد سنی سنیوں کی مجالس میں بیٹھ کر بیان کرتے ہیں
اھل بیت سے خاص بغض و عناد ہونے کی وجہ سے ابن تیمیہ نے خوب شان گھٹانے کی کوشش کی اور آج اسی ابن تیمیہ کے دلائل کچھ سنیوں کے لبادے میں ناصبی بیان کرتے ہیں
معاملہ اتنا آسان تو نہیں ہے کہ آپ رافضی پہچان لیں مگر ناصبی آپ کے اندر تک گھس گئے ہیں
پیر مہر علی شاہ رحمہ اللہ کی تقریر دل پذیر سے اگر کسی کے دل میں ہول اٹھیں تو مرضِ قلب کا علاج کروائے کہ مولا علی ہمیشہ محتاج الیہ رہے ہیں انہوں نے کبھی کسی سے علمی پیاس بجھانے کو سوال نہیں کیا
سوائے جنابِ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے علی المرتضیٰ نے کسی سے اکتسابِ فیض نہیں کیا یہی حق ہے یہی اعتدال ہے
✍️ #سیدمہتاب_عالم
