عشقِسیدِعالَم 22
شریعت و طریقت کے عظیم امام ابو القاسم القشیری نے امامِ اھلِ سنت ابو الحسن اشعری اور ان کے متبعین کے دفاع میں ایک مختصر رسالہ لکھا جس کا نام
شكاية أهل السنة بحكاية ما نالهم من محنة
رکھا ہے
یعنی اھلِ سنت نے جو باتیں فرمائی ہی نہیں اور ان پر ان ناکردہ باتوں کی وجہ سے جو آزمائش آئی اس کی شکایت«»
اس رسالے میں امام قشیری نے اہلِ سنت پر جو پہلا جھوٹ باندھا گیا اس کا جواب دیا
کہ بد مذھب گمراہ یہ کہتے ہیں کہ سنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قبر مبارک میں نبی نہیں مانتے اور وصالِ باکمال کے بعد رسول نہیں مانتے
فرمایا یہ اہلِ سنت پر اور امام اشعری پر بہت بڑا بہتان ہے
یہ بہتان ہی ہے کیونکہ ہم اہلِ سنت کے نزدیک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قبر مبارک میں حیات ہیں
{شکایة أهل السنة ص 81}
یہ عقیدہ اھلِ سنت کا صدیوں سے ہے اور اس کا خلاف وہی کرتا ہے جو بدعتی گمراہ ہوتا ہے
امام قشیری نے 465 ہجری میں وفات پائی یعنی آج سے ایک ہزار سال پہلے کے علماءِ اسلام کا یہی عقیدہ اور ان سے پہلوں کا بھی یہی عقیدہ تھا کہ
تو زندہ ہے واللہ تو زندہ ہے واللہ
میرے چشمِ عالم سے چھپ جانے والے
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
کا ترجمہ کیا کیا کرتے ہیں ؟
اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں
محمد اللہ کے رسول ہیں
رسول تھے کا ترجمہ نہیں کرتے بلکہ ہیں
پہلے بھی تھے اب بھی ہیں اور آگے تک رہیں گے
اُنہی کے دم سے بہار ہے تو اُنہی پہ عالَم نثار ہے
وہ جو نہ تھے تو کچھ نہ تھا وہ جو نہ ہوں تو کچھ نہ ہو
جان ہیں وہ جہان کی جان ہے تو جہان ہے
زندگی کیا ہے ؟
اُن کے در کی باندی ہے
وہ کم بخت ہی ہوگا جو قاسمِ نعمت صلی الله علیہ وسلم کو باندی کا محتاج بتائے
اللہ رب العالمین نے فرمایا
خلق الموت و الحیاۃ
اسی رب العزت نے موت و زندگی کو پیدا کیا ہے
زندگی و موت الله کی تخلیق ہیں اور مخلوقاتِ خدا میں سب سے اعلی و افضل ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم ہیں
ہر خشک و تر سفید و سیاہ جاندار و بے جان پر قبضہ اُسی کا ہے جسے رب العالمین نے رحمۃ للعالمین بنایا ہے
اُنہی کے دستِ رحمت میں بخشش کے پروانے ہیں تو اُنہی کے خزانے میں موت و حیات کے راز ہیں
رب العالمین نے اُن کو خدائی کا مالک کر دیا کہ جس مخلوق پر جیسے چاہیں تصرف فرمائیں
تو موت پر تصرف کیوں نہیں ہوگا ؟
اُن کی بارگاہ میں تو موت و حیات سر جھکائے کھڑی ہوتی ہیں
مر کے جیتے ہیں جو اُن کے دَر پہ جاتے ہیں حسنؔ
جی کے مرتے ہیں جو آتے ہیں مَدینہ چھوڑ کر
اللھم صل و سلم و بارک علیٰ سیدنا و مولانا محمد کما تحب و ترضی لہ
سیدمہتاب_عالم# ✍️
