مناظر عناد پرست اور بے عمل بن جاتا ہے

طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 122

امام اوزاعی نے فرمایا
إذا أراد الله بقوم شراً ألزمهم الجدل ومنعهم العمل
جب اللہ رب العزت کسی قوم کی ہلاکت کا ارادہ فرماتا ہے تو اس پر بحث و جدل لازم کر دیتا ہے اور عمل سے ان کو روک دیتا ہے
(آداب شریعہ لابن مفلح)
امام مالک نے فرمایا
الجدال في الدين ينشئ المراء ويذهب بنور العلم من القلب ويقسي ويورث الضغن
دین میں بحث کرنے سے مخالفت پیدا ہوتی ہے دل سے علم کا نور رخصت ہو جاتا ہے اور دل سخت ہو جاتا ہے اور کینہ پیدا ہوتا ہے
(سیر اعلام النبلاء)
یہ جو عقائد درست کرنے کا ٹھیکہ اٹھاتے ہیں ان کے بارے امام مالک نے ارشاد فرمایا ہے
حقیقت بالکل ایسی ہی ہے کہ دفاعِ حق کے نام پر مباحثے کرنے والوں کے دل بغض و کینے سے بھر پور ہوتے ہیں اور عمل سے یہ لوگ یکسر دور ہوتے ہیں
جیساکہ اوپر امام اوزاعی کا فرمان گزرا کہ عمل سے دور ہو جاتے ہیں
جب کسی کی غلطی نظر آئی نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ دیکھا بس سرِ عام میدانِ مناظرہ لگا لیا یہ نہ دیکھا دین کا کتنا نقصان ہوتا ہے
کچھ لوگوں نے اپنی زندگی اسی ناحق کام میں صرف کر رکھی ہے
اپنی مناظرانہ طبیعت کی وجہ سے صحابہ و اہل بیت کی تنقیص سے بھی باز نہیں آتے
جبکہ حقیقی عالم اپنا عقیدہ بیان کرتا ہے و بس
یہ عقیدہ تھوپنے اور منوانے کا خناس جو مناظرین کی طبیعت میں ہے حکمتِ اسلام کے منافی ہے
بارہا کا مشاہدہ ہے جو حبِ اھلِ بیت کا دم بھرتا ہے وہ گستاخِ صحابہ بن جاتا ہے اور جو دفاعِ صحابہ کا دم بھرتا ہے وہ گستاخِ اھلِ بیت بن جاتا ہے
صحابی کی فضیلت ثابت کرنے کے دوران اھلِ بیت کے کسی فرد کی تنقیص ضروری ٹھہرائی جاتی ہے
اور اھلِ بیت کی شان بیان کرتے وقت صحابہ کرام کی اہانت لازمی کی جاتی ہے
یہ تقابل کا مرض ہر دو طرف سے ہے اگر وہ مجرم ہیں تو کم تم بھی نہیں ہو
لہذا بچوں کو مناظر نہ بنائیں صوفی بنائیں
جتنی دیر خصم کو نیچا دکھانے میں حوالے تلاش کرتے ہیں اتنی دیر نفل پڑھ لیں ذکر و اذکار کر لیں مگر شیطان نہیں کرنے دیتا
اور پھر شیطان ان کو اس چکر میں گھماتا رہتا ہے تم جہاد کر رہے ہو
یہ دین کا عظیم شعبہ ہے
اگر تم دفاع نہیں کرو گے تو تم سے سوال ہوگا وغیرہ وغیرہ
جبکہ حقیقت میں شیطان و نفس کی چال میں آ کر کثیر نیکیوں سے محروم رہتے ہیں
ان مناظرانہ طبیعت رکھنے والوں سے پوچھا جائے کہ آج نفل کتنے پڑھے تسبیحات و اذکار میں کیا کچھ کیا تو ایسے ساکت ہو جائیں گے جیسے سانپ سونگھ گیا ہو
اپنی اصلاح کما حقہ نہیں کر پاتے اور لوگوں کے عقائد ٹھیک کرنے کے دھوکے میں نیکیوں سے محروم رہتے ہیں!
قیام اللیل کرنا پھر نماز با جماعت پھر روزے پھر ذکر و تسبیح یہ مردوں والے کام ہیں
بحث و جدال بہتر ہوتا تو صوفیاء کرام چلے چھوڑ کر عبادت کی کثرت سے منہ موڑ کر مناظرے کر لیا کرتے
بلکہ یہاں تو حقیقی علماء بھی مناظروں سے دور و نفور رہتے تھے
اور آج تقریبا علماء اسی باطل نشے میں مخمور ہیں!
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top