ملک کے نظام کی خرابی کی سب سے بڑی وجہ سہولیات دینا ہے

اسلامی_طرزِتربیت 36

موجودہ نظامِ جمہوریت کا ایک بیہودہ غلط و غلیظ کام سرکاری ملازمین کو سہولیات دینا ہے

بھلا ایک بندہ سرکاری ملازم ہے گورنمنٹ سے بندھی تنخواہ لے رہا ہے پھر اسے ہی گورنمنٹ کے خزانے سے سہولیات دینا اور مزدور طبقہ کو یکسر لات مار کے سہولیات کی اہلیت سے نکال دینا ظلم و ستم نہیں تو کیا ہے ؟
میں چند مثالیں پیش کرتا ہوں جن سے آپ کو بخوبی سمجھ آ جائے گا کہ سہولیات دیئے جانے کی وجہ سے تقریباً 95 فیصد ظلم ہے اور نظام کی خرابی کی بڑی وجہ یہی ہے

مثلاً علاقے کے اے سی اور ڈی پی او کو سرکاری گاڑی نہ دی جائے وہ لوکل گاڑیوں پر سفر کرتے اس کا خاندان لوکل پر سفر کرے تو حد سے زیادہ کرائے ہوں گے ؟
ہرگز نہیں
کیونکہ اے سی صاحب جب جیب سے کرایہ بھریں گے تو علاقے میں کرائے کا نظام درست ہو جائے گا
پٹرول کا نظام درست ہو جائے گا
اور لوڈنگ کا نظام درست ہو جائے گا
اے سی صاحب اور ڈی پی او کو گورنمنٹ کی طرف سے ذاتی خدمت کے لیئے ملازم نہ دیا جائے تو کیا ہوگا
وہ خود سودا سلف لائیں گے یا اپنے گھر کے فرد کو بھیجیں گے
یوں مہنگائی روز کے روز ان کی نگاہوں میں آئے گی
پھر مہنگائی رہے گی؟
واپڈا کے آفسیر کو مفت بجلی نہ دی جائے تو اسے یونٹ کی قیمت کا احساس ہوگا

کیا بجلی مہنگی ہوگی ؟

گیس آفسیر کے گھر اسی روٹین سے گیس کی لوڈ شیڈنگ ہو جیسے عوام کے گھروں میں ہوتی ہے پھر وہ سلنڈر لائے تو اسے پتا چلے مارکیٹ میں کیا ریٹ ہے
تب گیس کا نظام درست ہوگا

اسی طرح ایم این اے یا ایم پی اے کو سہولیات سے محروم کر دیا جائے تو کیا ان کو عوام کی ہر پریشانی کی خبر نہیں ہوگی ؟`

جو بندہ پہلے سے گورنمنٹ کے خزانے سے ماہانہ لگی بندھی تنخواہ لے رہا ہے اسے پھر نواز دینا ملک کے دوسرے لوگوں پر ظلم کرنا ہے
سہولیات ان کو دیں جن کی آمدن کبھی یومیہ دو سو کبھی پانچ سو ہے
جن کی مقرر تنخواہ نہیں ہے اگر ہے تو کچی پکی نوکری ہے جن کے چھوٹے موٹے کام ہیں جو مزدور ہیں
گورنمٹ کے ادنی سے ادنی ملازم اور اعلی سے اعلی ملازم سے سہولیات چھین لیں سارا نظام درست ہو جائے گا
جب گورنمٹ کے ملازم عوام میں خود اتریں گے اور اپنی تنخواہ سے لین دین کریں گے تو 95 فیصد ظلم و ستم ختم ہوگا اور نظام کی خرابی کا رونا دھونا ختم ہوگا
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top