تاریخِ_اسلامی 76
یورپ کی بد تہذیب بلکہ انسانیت کے نام پر داغ قوم نے سقوطِ اندلس پر ایک ٹارچر سیل بنایا
جس میں پچاس سے زائد آلات تھے جن کے ذریعہ اندلس میں بچے کھچے مسلمانوں اور گوریلا جنگ کرنے والے مجاہدین کو طرح طرح کے عذاب دیئے جاتے تھے
یہ میوزم اسپین سینٹالانا ڈیل مار، کینٹابریا میں موجود ہے
ایسے عذاب جن کو سن پڑھ کر انسانیت نہیں حیوانیت بھی شرما جائے
مگر آج کے ترقی یافتہ مہذب یورپی حیوان نہ عذاب دیتے ہوئے تب شرماتے تھے نہ اب اس عقوبت خانے کو میوزم کا درجہ دے کر سیر و تفریح کے لیئے کھولنے والے جدید یورپی حیوان شرما رہے ہیں
گوری چمڑی کے پیچھے شیطان چہرے آج بھی گوانتا موبے جیل اور ابو غریب جیل کے کارنامے دکھائیں تو حیوانوں کا بھی انسانیت سے اعتبار اٹھ جائے
مگر تعجب ان بے حیاؤں پر ہے جو یورپین کو انسانیت کا خیر خواہ سمجھتے ہیں
حیوان نسل در نسل حیوان ہوتا ہے خواہ کتنی بھی ترقی کر جائے کیسا ہی جدید ہو جائے
یہی وجہ ہے یورپ میں جا آباد ہونے والے اکثر دیسی لوگوں کو خون سفید اور آنکھیں ماتھے پر اور دیوث ہو جاتے ہیں
نہ عزت رکھ پاتے ہیں نہ شرف و کرامت باقی رہتی ہے!
زمانہ جاہلیت کے لوگ عزت و شرف کو مال و دولت پر مقدم کرتے تھے مگر زمانہ جدیدت کے جاہل پیسے پر عزت نچھاور کر دیتے ہیں
اپنی کرامت و عزتِ نفس چند ٹکوں کے عوض بیچ دیتے ہیں اور پھر کہتے ہیں ہم تہذیب یافتہ دور کے مہذب انسان ہیں
تف ہے ایسی انسانیت پر جس سے حیوانیت بھی شرما جائے
✍️ #سیدمہتاب_عالم

