گھوڑوں کا نسب

تاریخِ_اسلامی 77

یورپ و امریکہ میں 60 فیصد لوگوں کو اپنے اصل باپ کا نہیں معلوم یعنی وہاں تقریباً ساٹھ فیصد ناجائز پیداوار ہے

جبکہ اھلِ عرب کے ہاں انسانوں کے نسب کی نظافت و خالصیت تو دور وہ گھوڑوں کے نسب کا صدیوں خیال رکھتے آئے ہیں
جی ہاں یہ گھوڑا کس کا بچہ ہے اس کی ماں کونسی ہے اس کی ماں کونسی ہے اس کا باپ کس کے پاس تھا اس کے باپ کا باپ کس کی ملکیت میں رہتا تھا یوں بیسیوں پشتوں کو وہ جانتے تھے
اسی کو اصیل گھوڑا کہتے تھے جس کا نسب واضح و ملاوٹ سے پاک ہوتا تھا
باقاعدہ اس پر علماء و مورخین نے کتابیں لکھی ہیں
مثلاً
اسماء خیل العرب و انسابھا للاعرابی

انساب الخیل لابن الکلبی

انسان کی عزت و شرف معروف النسب ہونے میں ہے
جو اپنے گھوڑوں کا نسب مجہول برداشت نہ کرتے ہوں وہ اپنا کیسے کر سکتے ہیں
اسلامی قوانین میں ڈی این اے کی وقعت صفر سے بھی کم تر ہے

اسلام میں مسلمانوں کی گواہی سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے
جس قوم نے جانوروں میں اتنی باریکی اپنائی ہو وہ انسانوں میں کیونکر غافل ہو سکتی ہے؟
سیدمہتاب_عالم# ✍️

Scroll to Top