مرد و عورت کے حسن میں فرق

اسلامی_طرزِتربیت 134

حسن و جمال میں اکمل کون

دنیا میں متضاد اشیاء کی باھم کشش بلکہ محتاجی بہت اھمیت رکھتی ہے
رات بغیر دن کے بے مزہ اور دن بے رات کے ناتمام , زمین آسمان کے بناء حسین نہیں اور آسمان زمین کے بغیر باکمال نہیں
گلاب میں کانٹے نہ ہوں تو دونوں ادھورے کہ کھلے گلاب کو کوئی بھی توڑ سکتا ھے مگر کانٹے ہوں تو کسی کی مجال نہیں حالانکہ دونوں متضاد ہیں
{ بھائی , باپ , خاوند , عورت کے لئیے کانٹے ہیں جو آنے والے کو باز رکھتے ہیں }
اور اگر صرف کانٹے ہی ہوں تو کوئی نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھے

اسی طرح عورت کا حسن الگ حیثیت رکھتا ہے
اور مرد کا جمال الگ طرح کا ہوتا ھے کیونکہ یہ دونوں قسم کے حسن متضاد صفات رکھتے ہیں
خاتون نزاکت میں حسین جبکہ مرد صلابت میں باجمال ہوتا ھے
عورت چہرے پہ فالتو بال و کھال اتارنے سے حسین جبکہ مرد چہرے پر بالوں کے ساتھ حسین ہوتا ھے
عورت میں ضعف و کمزوری جمال اور مرد میں قوت و طاقت جمال ھے
عورت میں شرم و حیاء حسن و جمال جبکہ مرد میں خود اعتمادی جمال ھے
خاتون کا حسن سونے چاندی کے زیورات سے جبکہ مرد کا داڑھی و عمامہ سے حسن و جمال جوبنوں پہ آتا ھے

سیدہ طیبہ طاہرہ عابدہ زاہدہ عفیفہ اماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں
سبحان من زين الرجال باللحى والنساء بالذوائب
پاک ہے وہ ذات جس نے مَردوں کو داڑھی اور عورتوں کو چوٹیوں سے زینت بخشی
{مستدرک للحاکم}
خاتون کا حسن چہرے پر معصومیت جبکہ مرد کا جمال چہرے پر ہیبت سے آتا ہے
{جس کو وجاھت کہتے ہیں }

تو جو مرد خواتیں کی طرح نزاکت دکھاتے چہرے کے بال صاف کرتے میک اپ سے منہ بھرتے وہ زنانہ ہیں
اور جو خواتین مردوں کی طرح بال رکھتیں مردوں والے کام کی کوشش کرتی ہیں وہ خواتین مردانہ ہیں
یہ دونوں فطرت کے اصولوں سے ہٹے ہوئے طبیعت سلیمہ سے بھٹکے ہوئے ہیں
اور ایسے دونوں پر لعنت کی گئی ھے

مرد کا حسن و جمال چہرے پر سنجیدگی و متانت و وجاھت ھے
مرد کا حسن سلیقے سے رکھی داڑھی , طریقے سے بندھا عمامہ, پر ہیبت کرنے کو معقول طوالت کے ساتھ زلفیں ہیں

اپ ان سب کا تجرباتی مشاہدہ ان اداکاروں سے بھی کر سکتے ہیں جو داڑھی منڈھے اور مونچھیں صاف کئیے ہوتے ہیں اگر وہی لوگ داڑھی پگڑی اور زلفوں میں دیکھے جائیں تو پر کشش لگتے ہیں

° الغرض مرد میں ہر وہ شے حسن و جمال پیدا کرتی ہے جو ہیبت و کرختگی ظاہر کرے °
اور عورت کا حسن حیاء و پوشیدگی میں ھے
ہر ایک اپنا خیال کرے ورنہ کوا چلا ہنس کی چال اپنی بھی بھول گیا کے مصداق مخنث و ہیجڑے کثیر ہو جائیں گے
کائنات میں انسان اشرف المخلوقات ہے اور انسانوں میں مرد افضل الانسان ہیں اور مَردوں میں افضل و احسن داڑھی عمامہ اور زلفوں والے مرد ہیں
کیونکہ اللہ رب العزت نے فرمایا
لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْۤ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ
بے شک ہم نے انسان کو سب سے اچھی صورت میں پیدا فرمایا ہے
انسان کامل مخلوق اور انسانوں میں انبیاء کرام علیہم السلام اکمل ہیں جو کہ مرد ہیں
احسن تقویم کے اولین مصداق انبیاء کرام علیہم السلام ہیں پھر ان کے نقوشِ قدم پر چلنے والے مرد حسین ہیں
حدیث مبارکہ میں ہے
قَدِ اُعْطِيَ شَطْرَ الْحُسْنِ
یوسف علیہ السلام کو نصف حسن دیا گیا
{مسلم شریف}
اس کا ایک معنی ہے کہ °°° سیدنا یوسف علی نبینا و علیہ الصلاۃ والسلام کو کل مخلوق کا آدھا حسن دیا گیا °°°
یعنی حسن و جمال کے دو حصے ہیں آدھا یوسف علیہ السلام کو باقی آدھا دیگر مخلوقات کو دیا گیا
دوسرا معنی ہے کہ یوسف علیہ السلام کو سیدنا آدم علی نبینا و علیہ الصلاۃ والسلام کے حسن کا آدھا دیا گیا کیونکہ انسانوں میں آدم علیہ السلام کی تخلیق اللہ رب العزت نے اپنے دستِ قدرت سے فرمائی ہے تو وہ سب سے زیادہ حسن و جمال والے ہیں
اس کی تائید دوسری حدیث مبارکہ سے بھی ہوتی ہے
خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ
الله وحده لا شريك نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا فرمایا
{ بخاری شریف }
معنی ہے کہ اپنی پسندیدہ صورت پر پیدا فرمایا تو ان کو ہر لحاظ سے اکمل و اولی بنایا
ان کے حسن و جمال کو غایت تک پہنچایا کہ ان کے بعد ان سا حسن و جمال والا کوئی نہیں بنایا
تو یوسف علیہ السلام کو آدم علیہ السلام کا نصف حسن دیا
یہ دونوں مرد ہیں
داڑھی اور عمامہ سنتِ انبیاء کرام علیہم السلام ہیں ••• تو جو ظاہری صورت میں ان کے قریب ہوگا وہ زیادہ جمال والا ہوگا اور وہ مرد حضرات ہیں •••
اور پھر سب حسینوں سے بڑھ کر حسن والے سب جمالوں سے بڑھ کر جمال والے کہ یوسف علیہ السلام کو دیکھ کر خواتینِ مصر انگلیاں کاٹ لیں مگر اُن کے نام پر مرد اپنے سر کٹوا لیں وہ جنابِ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم بھی مرد ہیں

معلوم ہوا حسن و جمال مَردوں کا زیادہ ہے وہی خلیفہَ الٰہی ہے وہی آئینہَ جمالِ الٰہی ہے وہی خاص دستِ قدرت کی تخلیقِ الٰہی ہے

✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top