الحب_و_العشق 38
لوامع أنوار القلوب في جوامع أسرار المحب والمحبوب
میں قاضی ابو المعالی نے بیان فرمایا
المحبة موافقة الحبيب فى المشهد و الغيب
محبوب کی موجودگی اور غیر موجودگی میں موافقت کرنا مَحبت ہے
وہ سامنے ہو تو اس کے ہر قول و فعل میں موافقت کرنا وہ موجود نہ ہو تو اس کی آراء و افکار کی حمایت کرنا
تپتے صحراء میں حبیب کہے چلو تو ننگے پیر چل پڑے
کانٹوں سے بھرے رستے پر حبیب کہے بھاگو تو بھاگ پڑے
آگ کے دریا میں حبیب کہے کود جاؤ تو کوڈ پڑے
محبت میں کیوں کیسے کس لیئے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا
محبوب کے فرمان پر تردد کرنا اہانت و تحقیرِ مَحبت ہے
محبت حقیقی ہو یا مجازی ہر صورت میں سر جھکانا پڑتا ہے
محبتِ حقیقی میں نفی و اثبات ہے یعنی وحدہ لا شریک کے سوا ہر ایک کی نفی اور صرف اسی کا اثبات کرنا
کوئی ہے ہی نہیں بس وہی ہے
اسی کا نام ایمان ہے
اسی محبتِ حقیقی کا مظہر محبتِ مجازی ہے جس میں خیالِ غیر جفاء و دغا شمار ہوتی ہے
یہی وجہ ہے دونوں محبتوں میں انا کی نفی ہے اور ہر حال میں محبوب کی ہر بات سے موافقت کرنا ہے
جو محبوب کے سامنے میں , میرا , میری , میرے ,مجھے , میرے لیئے کہے وہ محبت میں جھوٹا و مکار ہے
شاعر کا قول ہے
محبت میں برابر ہے وفا ہو کہ جفاء ہو
ہر چیز میں لذت ہے اگر دل میں مزہ ہو
✍️ #سیدمہتاب_عالم
