قبر و حشر کی دو حالتیں

علوم_القران 8

اللہ رب العزت نے قیامت کے دن لوگوں کا حال بیان فرمایا
يَومَ يَكُونُ النَّاسُ كَالفَرَاشِ المَبْثُوثِ
جس دن لوگ یوں ہوں گے جیسے پھیلے ہوئے پروانے

اور دوسری جگہ قبروں سے اٹھنے کا حال بیان فرمایا

خُشَّعًا أَبصَارُهُم يَخرُجُونَ مِنَ الْأَجدَاثِ كَأَنَّهُم جَرَادٌ مُّنتَشِرٌ
خوف کے مارے قبروں سے یوں نکلیں گے جیسے پھیلی ہوئی ٹڈیاں ہیں

بظاہر ان دو آیات سے لوگوں کے سادہ سے احوال بیان ہوئے
مگر تدبر و تفکر کرنے پر قرآنی آیات سے علم الحشرات کے پردے اٹھ جاتے ہیں
ٹڈیاں ایک ترتیب و تنظیم سے ایک جگہ سے دوسری جگہ اڑتی ہیں
جبکہ پروانے دیوانہ وار بے ترتیب اڑتے گرتے پڑتے ہیں اور تھک ہار کر آگ میں کود جاتے ہیں یا مر جاتے ہیں
یہاں قرآن کریم نے قبروں سے اٹھنے کی حالت کو ٹڈیوں سے تشبیہ دی کہ جب لوگ قبروں سے اٹھیں گے تو انتہائی منظم طریقے سے میدان حشر کی طرف چلیں گے
اور جب محشر میں میدان حشر میں پہنچ جائیں گے تو اھوالِ قیامت دیھ کر پروانوں کی طرح گرتے پڑتے ہوں گے

اور ° فراش کہنے کی وجہ یہ بھی ممکن ہے کہ جیسے پروانے آگ میں بغیر سمجھے کودتے ہیں لوگ بھی دنیا میں غفلت کی بدولت روزِ قیامت آگ میں پھینکے جائیں گے °
تو جو یہاں پروانوں جیسی غفلت برتے گا وہاں آگ میں ڈال دیا جائے گا
قرآن کریم کے معجزات بیان سے باہر ہیں جو جتنی بار غور و فکر سے پڑھے گا نئے علوم پائے گا


سیدمہتاب_عالم# ✍️

Scroll to Top