عیب کھولنے والے گھٹیا انسان

اسلامی_طرزِتربیت 172

الله رب العزت نے پردے ڈال کر عیب چھپا رکھے ہیں میرے بھی آپ کے بھی اِس کے بھی اُس کے بھی لہذا کسی کے عیبوں پر پڑا پردہ ہٹانے کی بیہودہ حرکت مت کریں
ورنہ آپ کے ایسے عیب کا پردہ اٹھا دیا جائے گا کہ آپ منہ دکھانے کے قابل نہ رہیں گے
حدیث شریف میں ہے

كلُّ ابنِ آدمَ خطَّاءٌ وخيرُ الخطَّائينَ التَّوَّابونَ
ہر آدمی خطاء کار ہے اور بہترین خطاء کار وہ ہیں جو توبہ کر لیتے ہیں
❗ترمذی ❗
سیدنا عیسیٰ علی نبینا و علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا
لا تنظروا في ذنوب الناس كأنكم أرباب
لوگوں کے گناہوں کو یوں مت دیکھو گویا تم رب ہو
وانظروا في ذنوبكم كأنكم عبيد
بلکہ اپنے گناہوں کو یوں دیکھو جیسے تم غلام ہو
❗الاستذکار لابن عبد البر ❗
بندے بنو عزت پاؤ گے رب بننے کی کوشش کرو گے ذلیل و رسوا ہو جاؤ گے
بندے کی ہمت تو دیکھو جس گناہ و عیب پر رب العالمین نے پردہ ڈالا ہوا ہے بندہ اپنی شرارت سے وہ پردہ اٹھا کر رب بننا چاہتا ہے
بندے بنو اسی میں عزت و عافیت ہے
انسان کتنا خود غرض ہے دوسروں کے عیب بے فکر ہو کر اچھالتا ہے اور جب اپنا عیب کھلتا ہے تو پھر یاد کرتا ہے اے الله تو ستار ہے میرے عیب چھپا
اور یہ تب بھول جاتا ہے جب بندوں کے عیب خود انسان اچھال رہا ہوتا ہے
حدیث شریف میں ہے
من ستر مسلمًا ستره الله في الدنيا والآخرة
جس نے مسلمان کی پردہ پوشی کی تو الله رب العزت دنیا و آخرت میں اس کی پردہ پوشی کرے گا
❗یاد رکھیں ہر انسان کے کچھ کام کچھ عیب یا کچھ افکار ایسی ہوتی ہیں کہ جن کو ظاہر کرنے سے زمین میں اتر جانا مناسب جانے
تو پھر دوسروں کے عیب اچھالنا کس طرح روا جان لیتا ہے ؟
ہر انسان میں عیب ہوتے ہیں مگر اچھا انسان اپنے عیب اور دوسروں کی خوبیاں دیکھتا ہے
جبکہ گھٹیا انسان اپنی خوبیاں اور دوسروں کے عیب تلاش کرتا ہے

نہ تھی حال کی جب ہمیں خبر, رہے دیکھتے اوروں کے عیب و ہنر
پڑی اپنی برائیوں پر جو نظر، تو نگاہ میں کوئی برا نہ رہا
❗بہادر شاہ ظفر ❗
لہذا اپنے عیب اور دوسروں کے کمال پر نظر رکھیں
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top