اسلامی_طرزِتربیت 171
مسلمان تو سلامتی لاتا ہے
آتش پرستوں کے نزدیک دو خدا ہیں
خیر کا خدا جس کا نام یزداں ہے اسے نور کہتے ہیں
شر کا خدا جس کا اَہَرمَن ہے اسے ظلمت کہتے ہیں
اسی وجہ سے آتش پرست جب صبح ملاقات کرتے تو کہتے صبح بخیر جواب ملتا صبح روشن ہو
شام کو ملتے تو کہتے شام بخیر جواباً کہا جاتا آپ کی شام روشن ہو
❗ معجم المناھی اللفظیة صفحہ 335 ❗
ان آتش پرستوں سے انگریزوں نے گڈ مارننگ کا تصور لیا اور انگریزوں سے بعض جاہل مسلمانوں نے یہ عملِ بد لیا
اب اردوں داں طبقہ صبح بخیر شام بخیر کہتا ہے
حتی کہ عربی لوگ بھی صباح النور اور مساء النور کہتے ہیں
اور یہ جاہل مسلمان اس بات سے غافل ہیں کہ یہ آگ کی پوجا کرنے والوں کا سلام ہے
اور یہ صبح کے وقت خیر کے خدا سے خیر مانگنے اور شام کے وقت شر کے خدا سے پناہ مانگنے کے الفاظ ہیں
علماءِ اسلام نے فرمایا ہے
ملاقات کے وقت سلام سے پہلے کوئی بات نہ کی جائے کوئی دعاء بھی دے تو اس کا جواب نہ دیں
ہمارے وحدہ لاشریک رب العزت نے کتنا پیارا سلام دیا ہے
کہ السلام علیکم کہا جائے
یقین کریں اگر السلام علیکم کا معنی سمجھ کر ایک دوسرے کو سلام کریں تو اندر کا بغض و کینہ جڑ سے ختم ہو جائے
السلام علیکم کا معنی ہے آپ پر سلامتی ہو ہر لحاظ سے سلامتی ہو
آپ ہر مصیبت و بلاء سے سلامت رہیں
مجھ پر آپ کی سلامتی کا لحاظ واجب ہے
السلام علیکم یعنی آپ کی عزت جان مال مجھ سے سلامت ہیں
جب کسی کو اتنی دعائیں دل سے دیں گے تو کیا آپ کے اور سامنے والے کے دل میں کچھ غصہ باقی بچے گا؟ کوئی نفرت باقی رہے گی؟
ہم مسلمان ہیں ہمیں سلام کا حکم ہے
حدیث شریف میں ہے
والذي نفسي بيده لا تدخلون الجنة حتى تؤمنوا ولا تؤمنوا حتى تحابوا أوَلَا أدلكم على شيء إذا فعلتموه تحاببتم أفشوا السلام بينكم
اس ذات پاک کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے
تم جنت میں اس وقت تک داخل نہیں ہو سکو گے جب تک تم مومن نہ ہو جاؤ اور اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکو گے جب تک آپس میں محبت کرنے والے نہ بن جاؤ
کیا میں تمہاری رہنمائی ایسے کام پر نہ کروں کہ جسے کرو تو تم آپس میں محبت کرنے لگو
اپنے درمیان سلام پھیلاؤ
❗مسلم شریف ❗
یعنی باہمی محبت پیدا کرنی ہو تو سلام عام کریں
دوسری حدیث شریف میں ہے
المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده
مسلمان تو وہ ہے جس کی زبان اور جس کے ہاتھ سے دوسرے مسلمان سلامت رہتے ہوں
❗بخاری شریف ❗
معلوم ہوا مسلمان سلامتی کا ضامن ہے
سلامتی مسلمان کا فرض ہے
اور سلامتی سلام سے عام کرنے سے آئے گی
حدیث شریف میں ہے
إن من أشراط الساعة أن يسلم الرجل على الرجل لا يسلم عليه إلا للمعرفة
قیامت کی علامات میں سے ایک علامت یہ بھی ہے کہ آدمی صرف اپنے جاننے والوں کو سلام کرے گا
❗طبرانی شریف ❗
اگر آپ چاہتے ہیں ہر جاننے والا اور انجان آپ سے محبت کرے تو ہر ایک کو سلام کیا کریں
تجربہ شاہد ہے کہ سلام کرنے سے دل کے میل دھلتے اور کدورتیں دور ہوتی ہیں
سلام کرنے سے محبتیں بڑھتی اور ماحول کا تناؤ کم ہوتا ہے
لہذا مجوسی و انگریزی طریقے ترک کریں اور اپنے رب کا دیا ہوا سلام عام کریں
✍️ #سیدمہتاب_عالم
