علمی قلا بازیاں مت کھائیں

طریقِ_علم_نجاتِ_دارین 139

سیدنا عیسیٰ علی نبینا و علیہ الصلاۃ والسلام سے پوچھا گیا
کیا شے انسان کے دل کے علم اور دل کی جہالت کو ظاہر کرتی ہے ؟
فرمایا
زبان
سوال ہوا
خاموشی کہاں لازم ہے ؟
فرمایا

عند من هو أعلم منكم وعند الجاهل إذا جالسكم
جو تم سے زیادہ عالم والا ہے اس کے پاس خاموشی لازم ہے اور جب تم جاہل کے پاس بیٹھو تو خاموشی لازم ہے
❗الظرف و الظرفاء ص ٧ ❗

ہر جگہ منہ کھولنا روا نہیں ہوتا
خصوصاً علم والوں کی محفل میں ورنہ وہ وہ شگوفے چھوڑے جاتے ہیں کہ بس
ایک بوڑھا شخص طویل عرصے سے امام ابو یوسف کی مجلس کی حاضر ہوتا تھا مگر چپ رہتا تھا
امام ابو یوسف نے ایک دن فرمایا
آپ سوال نہیں کرتے ؟
اُس دن روزے افطار کا بیان تھا
وہ بوڑھا کہنے لگا میرا ایک سوال ہے اگر سورج آدھی رات تک غروب ہی نہ ہو تو افطاری کب کریں گے ؟
امام ابو یوسف نے فرمایا
آپ خاموش ہی رہا کریں
حروریہ طبقہ نے جب مولا علی کے حَکَم بنانے کے متعلق لا حُكمَ إلَّا للَّهِ حکم صرف الله کا ہے
کہا تو مولا علی نے فرمایا
كَلِمةُ حَقٍّ أُريدَ بها باطِلٌ
کلمہ حق ہے مگر اس سے باطل ارادہ کیا گیا ہے
یعنی استدلال کا موقع محل ہونا چاہئے اور پھر خود سے زیادہ علم والے کے سامنے علمی قلا بازیاں بندر کی اچھل کود لگتی ہیں
امام ابن الصلاح نے فرمایا
جس شہر میں بڑا عالم موجود ہو وہاں کم علم کو فتویٰ نہیں دینا چاہیئے
اسی طرح جس مجلس میں زیادہ علم والا ہو وہاں کسی کو مسئلہ نہ بتایا جائے
❗ادب المفتی المستفتی❗
جب علم والے موجود ہوں تو باطل استدلال سے شگوفے چھوڑنا علمی قلا بازیاں ہوتی ہیں
لہذا علماء کے سامنے قلابازیاں مارنے سے پرہیز کریں تاکہ آپ کے علم میں برکت ہو
آگے علم والا ہے تو خاموش رہیں جاہل ہے تو خاموش رہیں
قلابازیاں مت کھائیں
✍️ #سیدمہتاب_عالم

Scroll to Top